پاکستان میں مذہبی جنونیت حصہ سوم و آخر
Editor نے Thursday، 23 November 2017 کو شائع کیا.

pak-protest-2پاکستان میں مذہبی جنونیت حصہ سوم و آخر
مسعود انور
www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com

پاکستان میں مذہبی جنونیت کے اس وقت فروغ کے کیا مقاصد ہوسکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ موجودہ سیاسی قیادت کی تبدیلی مقصود ہے اور اس منصوبے پر کامیابی کے ساتھ پیش قدمی جاری ہے ۔ دوسرے حصے کا تعلق پاکستان کے داخلی معاملات سے زیادہ بین الاقوامی معاملات سے ہے ۔

اس وقت عرب کا علاقہ ایک ایسے آتش فشاں کا روپ دھار چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان کے تخت نشیں ہونے کے بعدسے صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو یمن میں جنگ کے بانی ہیں ، مزید اثر و رسوخ حاصل کرچکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق وہ جلد ہی بادشاہت کا منصب سنبھالنے والے ہیں ۔سعودی قیادت کی اسرائیل کے ساتھ پینگیں بھی بڑھ رہی ہیں ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اسرائیل کا خفیہ دورہ کرچکے ہیں ۔ لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کی ریاض طلبی ، مستعفی ہونے اور اب استعفٰی واپس لینے کے بعد سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے ۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو اچھی طرح سے سمجھادیا گیا ہے کہ ان کی بادشاہت کے استحکام کے لیے ایک جنگ ناگزیر ہے تاکہ ملک کی بقا کے نام پر پوری سعودی قوم کو متحد کیا جاسکے اور یہ آسان ترین جنگ ایران کے خلاف ہی لڑی جاسکتی ہے ۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہوں گے ۔ ایک تو ان کی حکومت مستحکم ہوجائے گی اور دوسرے لبنان ، شام اور عراق سے ہمیشہ کے لیے ایرانی فیکٹر سے نجات مل جائے گی ۔ سعودی عرب اور بحرین میں موجود شیعہ عربوں کی بغاوت کا خطرہ بھی ختم ہوجائے گا ۔ اب امریکی بلاک جس میں اسرائیل اور سعودی عرب بھی شامل ہیں ، لبنان میں حزب اللہ کے خاتمے کے نام پر ایک نئی جنگ شروع کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں ۔

صورتحال کو مزید تفصیل سے دیکھتے ہیں ۔ مسلمان دو واضح بلاکوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔ پہلے بلاک میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر ممالک شامل ہیں ۔ دوسرے بلاک میں روس، ایران، قطر، لبنان، شام اور حزب اللہ وغیرہ شامل ہیں ۔ اب اگر ان دونوں بلاکوں میں جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ پہلا گروپ لبنان پر حملہ آور ہوگا اور دوسرا گروپ سعودی عرب پر میزائیل برسا رہا ہوگا ۔ اس میں سے کوئی میزائیل ممکنہ طور پر مدینہ کے شہریا قرب و جوار پر بھی گر سکتا ہے یا یہاں پر دھماکے بھی کیے جاسکتے ہیں ۔

خلیج کی جنگ کے بعد ایران شام و عراق میں مسلسل الجھا ہوا ہے ۔ حزب اللہ بھی پوری طاقت کے ساتھ شام میں موجود ہے ۔ ایسی صورتحال میں ایران کے پاس افرادی قوت کی شدید کمی پائی جاتی ہے ۔ شام، عراق اور یمن میں بھی مسلسل جنگ کی وجہ سے شیعہ فوج کی فوری اور بڑی بھرتی ممکن نہیں ہے ۔ تقریبا یہی صورتحال سعودی عرب کے ساتھ درپیش ہے ۔ سعودی نوجوان عیش کے عادی ہوچکے ہیں اور جنگ کی مشقت کو جھیل نہیں سکتے ۔ مصر کے علاوہ اسے کہیں اور سے افرادی قوت نہیں مل سکتی ہے ۔ ان دونوں بلاکوں میں جنگ کا ایندھن بننے کے لیے اگر کہیں سے وافر افرادی قوت میسر ہے تو وہ پاکستا ن ہی ہے ۔ پاکستان میں لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ دلوں کو گرما رہا ہے ۔ پہلے ختم نبوت کے حوالے سے ایک حساس معاملے کو چھیڑا گیا ۔ پھر اس کے بعد ردعمل کے طور پر polarisation کا عمل شروع کردیا گیا ۔ سمجھ لیجیے کہ پاکستان میں اب انتخابات پارٹی بنیادوں پر نہیں لڑے جائیں گے بلکہ مسلکی بنیادوں پرہوںگے ۔ شیعہ اور سنی polarisation کا عمل مزید تیز ہوگا ۔ جب پاکستانیوں کی اکثریت مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہوچکی ہوگی تو شیعہ اور سنی مجاہدین کی بھرتی ایک آسان اور خودکار سا عمل ہوگا ۔ سنی رسول اللہ کے شہر کی حفاظت کے نام پر مجاہدین کی فہرست میں اپنا نام لکھوا رہے ہوں گے تو شیعہ یہود سے مقابلے کے لیے سر پر کفن باندھے مجاہدین کی لائنوں میں کھڑے ہوں گے ۔

دیکھنے میں یہ افسانوی سی کہانی لگتی ہے مگر ایسا ہے نہیں ۔ یہ کوئی نئی چیز بھی نہیں ہے ۔ یمن و شام کے لیے شیعہ مسلک کے لوگوں کو بھرتی کرکے بھیجا جاتا رہا ہے ۔ پارہ چنار میں ان کے تربیتی کیمپ اب بھی موجود ہیں ۔ شام کے لیے بذریعہ ایران جنگجووں کو بھیجنا بھی کوئی راز کی بات نہیں ہے ۔ میرے پاس 2016 کا روزنامہ جنگ کا وہ تراشا موجود ہے جس میں یمن میں مارے جانے والے ایک شخص کی مجلس عزا میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔ اسی طرح افغانستان وعراق میں اہلسنت مسلک کے لوگوں کی بھرتی بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ افغان جنگ میں پاکستانی علی الاعلان جاتے رہے ہیں ۔ مگر افغانستان کے علاوہ کبھی بھی یہ بھرتی نہ تو بہت بڑے پیمانے پر کی گئی ہے اور نہ ہی ا س کا اعلانیہ کبھی اظہار ہوا ہے ۔

پاکستان میں مذہب کے نام پر چڑھنے والے بخار میں روز ایک درجے کا اضافہ ہوجاتا ہے ۔ Polarisation کا عمل انتہائی خاموشی کے ساتھ مگر تیزی کے ساتھ جاری ہے ۔ دوبارہ سے نیو ورلڈ آرڈر کے منصوبے پردوبارہ نظر ڈالیں ۔نیو ورلڈ آرڈر کا مطلب ہے دنیا پر ایک حکومت ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا میں موجودہ ساری حکومتوں کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ اس کے لیے منصوبہ بنایا گیا ہے کہ دنیا کو چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے پھر اس کے بعد دنیا کو دس انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا جائے ۔اب اس کا آغاز خطہ عرب سے کیا جارہا ہے ۔ایک ایسی جنگ کا آغاز جس سے یہ پورا مسلم خطہ بری طرح متاثر ہوگا اور یہاں پر نئی جغرافیائی حد بندی آسان ہوجائے گی ۔

نیوورلڈ آرڈر کا ڈھیلا ڈھالا اعلان 2025 میں کیا جانا ہے اور پھر اسے بتدریج 2040 تک سختی کے ساتھ نافذ کردینا ہے ۔ اس عالمگیر حکومت کا ہلکا پھلکا مظاہرہ ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ حکم دے دیا گیا ہے کہ پولیو ویکسین کے نام پر جو کچھ معصوم بچوں کے منہ میں انڈیلا جائے ، اس پر کوئی اعتراض نہ کرے ۔ ہر چند دن کے بعد پولیو ویکسین پلانے والے پہنچ جاتے ہیں ۔ کوئی انکار کرکے تو دیکھے ، سیدھا اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔ یہ سختی نہ تو کچرا پھیلانے والوں پر ہے ، نہ ہی پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی ملانے والوں پر ہے ، نہ ہی ملک کو لوٹنے والوں پر ہے اور نہ ہی کسی اور جاں لیوا بیماری کے خلاف ہے ۔ اسی طرح چند دنوں میں ہم اپنے ہاتھوں میں ٹریکنگ چپ لگائے گھوم رہے ہوں گے ۔

پاکستان میں ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی جانے والی مذہبی جنونیت پر نگاہ رکھیے ۔ سب کچھ خود بہ خود سمجھ میں آجائے گا ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باشٍ ۔


پاکستان میں مذہبی جنونیت حصہ دوم
Editor نے Wednesday، 22 November 2017 کو شائع کیا.

پاکستان میں مذہبی جنونیت حصہ دوم مسعود انور www.masoodanwar.com hellomasood@gmail.com پاکستان کی ازخود ٹھیکیدار ایجنسیاں کافی عرصے سے ایک ایسی تیسری قوت کی تلاش میں ہیں جو موجودہ سیاسی قوتوں کا متبادل بن سکے ۔ چاہے کچھ بھی کرلیا جائے مگر یہ حقیقت ہے کہ پنجاب سے نواز شریف، سندھ سے زرداری اور خیبر پختون […]

مکمل تحریر پڑھیے »


​پاکستان میں مذہبی جنونیت حصہ اول
Editor نے Tuesday، 21 November 2017 کو شائع کیا.

​پاکستان میں مذہبی جنونیت حصہ اول مسعود انور www.masoodanwar.com hellomasood@gmail.com  مذہب ایک ایسا سیلاب ہے جو اپنی زد میں آنے والی ہر شے کو بہا کر لے جاتا ہے ۔ اس ہتھیار کو وہ تمام سازشکار بخوبی استعمال کرتے رہے ہیں جو دنیا پر اپنا تسلط چاہتے ہیں ۔ یہ ہتھیار قوموں کو جنگ کی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


سعودی عرب میں انتشار حصہ دوم و آخر
Editor نے Friday، 10 November 2017 کو شائع کیا.

سعودی عرب میں انتشار حصہ دوم و آخر www.masoodanwar.com hellomasood@gmail.com مسعود انور  سعودی شاہی خاندان میں ہونے والی صفائی کے کئی پہلو ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام شہزادے انتہائی مالدار ہیں اور ان کی دولت کا بڑا حصہ امریکی اور یوروپی بینکوں اورکمپنیوں میں موجود ہے ۔ مغربی ممالک میں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


سعودی عرب میں انتشار حصہ اول
Editor نے Thursday، 9 November 2017 کو شائع کیا.

سعودی عرب میں انتشار حصہ اول www.masoodanwar.com hellomasood@gmail.com مسعود انور سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کرنے کے بعد ایک کالم ’سعودی عرب بغاوت کے دہانے پر ‘ سپرد قلم کیا تھا۔ اس کالم کا پہلا پیراگراف ہی یہی تھا ۔ ’سعودی عرب طوفانوں کی زد میں ہے۔ شاہ عبداللہ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


لاس ویگاس ۔ ایک اور ٹریپ
Editor نے Friday، 6 October 2017 کو شائع کیا.
جامعات کے طلبہ کی معلومات
Editor نے Thursday، 14 September 2017 کو شائع کیا.