رنگین انقلابات حصہ آخر
Editor نے Monday، 19 February 2018 کو شائع کیا.

CR 4رنگین انقلابات حصہ آخر

مسعود انور

hellomasood@gmail.com

www.masoodanwar.com

رنگین انقلاب کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے وینزویلا ایک بہترین مثال ہے۔ یہ CR 42003 کی بات ہے کہ ان سازش کاروں نے وینز ویلا میں حکومت کی تبدیلی کے لئے رنگین انقلاب لانے کا فیصلہ کیا ۔ اس سے ایک سال قبل یہ ہیوگو شاویز کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک ناکام کوشش کرچکے تھے۔ رنگین انقلاب لانے کا فیصلہ کرتے ہی البرٹ آئن اسٹائن انسٹی ٹیوٹ AEI نے وینز ویلا میں نازل ہوگئی۔ اس کا ڈائریکٹر اور اس تھیوری کے بانیوں میں سے ایک کرنل ہیل وے بہ نفس نفیس خود وہاں پہنچا اور اس نے آمر کا تختہ الٹنے کے موضوع پر ایک نو روزہ کورس کا اہتمام کیا۔ اس کورس کے شرکاء میں وینز ویلا کی حزب اختلاف، این جی اوز، طلبہ و مزدور تنظیموں کے چیدہ چیدہ ارکان نے شرکت کی۔ کورس میں بتایا گیا کہ آمر کا تختہ الٹنے کے لئے وہ کیا تیکنک ہے جو پوری دنیا میں استعمال کی گئی۔ اس کے ایک سال کے اندر اندر پورا وینز ویلافسادات و مظاہروں کی لپیٹ میں آچکا تھاجس کو پوری دنیا کا مین اسٹریم میڈیا پوری طرح کور کررہا تھا۔ان مظاہروں میں حزب اختلاف نے شاویز کے خلاف ریفرینڈم کا مطالبہ کردیا جس میں حزب اختلاف کا بری طرح شکست ہوئی مگر اس نے حسب توقع اس میں دھاندلی کا الزام عائد کردیا۔ تاہم یہ الزام اس لئے بودے ثابت ہوئے کہ بین الاقوامی مبصرین کی فوج جس میں کارٹر سنٹر اور او اے ایس کے بھی نمائندے شامل تھے ، اس کے درست ہونے کا سرٹیفکٹ جاری کرچکے تھے۔

مارچ 2005 میں ان سازش کاروں نے از سرنو صف بندی کی۔ اس مرتبہ حزب اختلاف کے پرانے چہروں کو نوجوان اور طلبہ لیڈروں کے ایک گروپ سے تبدیل کردیا گیا تھا۔ ان لوگوں کی تربیت کے لئے سربیا کے دو کامیاب انقلابی اور اوٹپر کے سابق رہنما سولوب جان ڈینووک اور ایوان مارو وک بلغراد سے خصوصی طور پر وینز ویلا پہنچے۔ اس عرصہ میں یوایس ایڈ اور این ای ڈی کے فنڈنگ گروپ بھی متحرک ہوچکے تھے اور انہوں نے نوملین ڈالر کی فنڈنگ کی۔ ان کی مدد کے لئے فریڈم ہاوٴس بھی وہاں پہنچ چکا تھاتاکہ 2006 میں ہونے والے عام انتخابات کی آڑ میں انقلاب رونما کیا جاسکے۔چنیدہ لوگوں کو سیمینار اور ورکشاپ کی آڑ میں عوام خصوصا نوجوانوں کو منظم کرنے کے گر سکھائے جارہے تھے تاکہ سڑکیں شاویز مخالف نعروں سے بھری جاسکیں۔ مگر اس مرتبہ پھر شاویز ان کا توڑ کرنے میں کامیاب رہا ۔

اس کے دو سال بعد 2007 میں پھر ایک نئی کوشش کی گئی اور اس مرتبہ بہانہ تھا حزب اختلاف کے ترجمان ایک نجی ٹیلی وژن چینل آر سی ٹی وی کے لائسنس کی تجدید کا ۔ اس مرتبہ بھی طلبہ کا ہی مورچہ لگایا گیا اور سڑکیں ایک مرتبہ پھر پرتشدد مظاہرین سے بھر گئیں۔ پورا وینزویلا انہی انقلابیوں کے سلوگن سے بھردیا گیا۔ہر دفعہ کی طرح ملکی و غیر ملکی میڈیا پھر ان کی پشت پر تھا۔ فنڈنگ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ سیکڑوں منتخب افراد کو تربیت کے لئے بلغراد بھیجا گیا جبکہ طلبہ لیڈر یان گوئی کوچی Yon Goicochea کو امریکی تھنک ٹینک ساٹو انسٹی ٹیوٹ نے وینزویلا میں تربیتی کیمپوں کے انعقاد کے لئے پانچ لاکھ ڈالر فراہم کئے تھے۔ تاہم ہیوگو شاویز انقلاب کی اس لہر پر بھی قابو پانے میں کامیاب رہا۔

وینزویلا کا تفصیل کے ساتھ میں نے اس لئے تذکرہ کیا کہ ان سازشیوں کے طریقہ کار کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مصر، شام اور لیبیا میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ کرغیزستان میں رنگین انقلاب لانے والوں نے فری انٹرنیٹ ملک میں متعارف کروایا تھا اور اس کی مدد سے انہوں نے تربیت فراہم کی اور اپنے رابطے برقرار رکھے۔

اکثر لوگ انقلاب کے لفظ سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ یہاں پر انقلاب اور رنگین انقلاب کے مابین ایک باریک فرق کو سمجھ لیجئے۔ انقلاب کا مطلب ہوتا ہے کہ برسوں سے قائم شدہ سیاسی، سماجی و ملکی ڈھانچہ کو یکسر تبدیل کردینا جبکہ رنگین انقلاب کا مطلب ہے صرف اور صرف حکومت کی تبدیلی۔ اس سازش میں سارے عوامل کام کرتے ہیں۔ یہ بات جان لیجئے کہ حسنی مبارک تحریر اسکوائر پر ہونے والے مظاہروں کی بناء پر مستعفی نہیں ہوا تھا بلکہ یہ مصر میں امریکی سفیر فرینک وائزنر تھا جس نے حسنی مبارک کو اس کا حکم دیا تھا۔

اب پاکستان کے حالات کو دیکھئے کہ کس طرح معاملات آگے بڑھتے ہیں۔ کہاں کہاں سول سوسائٹی اور میڈیا کا سمبندھ ہوتا ہے اور کب کب نئے چہرے کھیل میں داخل کئے جاتے ہیں۔ یوایس ایڈ کس طرح اور کتنا پاکستان میں متحرک ہے۔ اور اس کے دیگر ذیلی ادارے کتنے پاکستانیوں کو تربیت فراہم کررہے ہیں تو پور ا کھیل ازخود سمجھ میں آجاتا ہے۔

ہیوگو شاویز سمیت جس جس نے بھی ان سازشیوں کو ناکام بنایا ہے انہوں نے سب سے پہلے ان تربیتی اداروں کی چھٹی کی۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ادارے نام بدل کر پھر وہاں داخل ہوتے رہے۔ جارجیا میں نارنجی انقلاب کے رونما ہوتے ہی اس کے ہمسایہ وسط ایشیا کے ممالک نے خطرے کی بو سونگھ لی تھی اور اس میں جارج سوروز کی اوپن سوساءٹی انسٹی ٹیوٹ کے کردارکا ادراک کرلیا تھا۔ اس لئے ازبکستان نے فوری طور پر اوپن سوساءٹی کو اپنا دفتر بند کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ان اداروں کو کھلی چھٹی دینے کا مطلب ہے ان کو سازش کرنے کی کھلی چھٹی دینا۔

دنیا پر ایک شیطانی عالمگیر حکومت کے قیام کی سازش سے خود بھی ہشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔ ہشیار باش۔


رنگین انقلابات حصہ سوم
Editor نے Friday، 16 February 2018 کو شائع کیا.

رنگین انقلابات حصہ سوم مسعود انور hellomasood@gmail.com www.masoodanwar.com قارئین اکرام کے اصرار پررنگین انقلابات حصہ دوم دوبارہ شائع کیا گیا ہے شارپ اور گال کے طریقہ کار کے تحت انقلاب لانے کی ترکیب ہر ملک میں ایک ہی رہیCR 3 ہے۔طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک تشکیل دی جائے جس کا لیڈر بالکل ایک نیا چہرہ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


رنگین انقلابات حصہ دوم
Editor نے Thursday، 15 February 2018 کو شائع کیا.

مسعود انور hellomasood@gmail.com www.masoodanwar.com قارئین اکرام کے اصرار پر رنگین رنگین انقلابات حصہ دوم دوبارہ شائع کیا گیا ہے یہ 1985 کی بات ہے کہ ناٹو کے زیراہتمام ایک سماجی سائنسداں جین شارپ کا ایک مقالہCR 2 چھاپا گیا جس کا عنوان تھا یورپ کو ناقابل تسخیر بنانا ۔اس مقالے میں شارپ نے دنیا میں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


رنگین انقلابات حصہ اول
Editor نے Wednesday، 14 February 2018 کو شائع کیا.

مسعود انور hellomasood@gmail.com www.masoodanwar.com نوٹ ( اب سے گذشتہ ایک برس قبل اگست میں ہی ، میں نے رنگین انقلابات کے نام سے CR 1چار کالموں کی ایک سیریز لکھی تھی جس میں تفصیل سے دنیا بھر میں حکومتوں کی تبدیلی کے لئے لائے گئے رنگین انقلابات اور ان کی پس پشت قوتوں کے بارے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


آخر پولیو ہی کیوں ؟ خسرہ یا ملیریا کیوں نہیں؟
Editor نے Tuesday، 13 February 2018 کو شائع کیا.

مسعود انور hellomasood@gmail.com www.masoodanwar.com polioانسداد پولیو کی ٹیموں پر قاتلانہ حملوں کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی اب تشہیر نہیں کی جائے گی اور خاموشی سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے انسداد پولیو کی ٹیم کے رضاکاروں کا یومیہ وظیفہ ڈھائی سو روپے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


پاکستان اور انسداد پولیو مہم
Editor نے Monday، 12 February 2018 کو شائع کیا.
کیا سانحہ زینب ایک اور بشریٰ زیدی کیس بن رہا ہے ؟
Editor نے Friday، 12 January 2018 کو شائع کیا.
ایران میں ایک اور رنگین انقلاب کی تیاری؟ حصہ دوم و آخر
Editor نے Wednesday، 10 January 2018 کو شائع کیا.
ایران میں ایک اور رنگین انقلاب کی تیاری؟
Editor نے Tuesday، 9 January 2018 کو شائع کیا.
بیت المقدس ہی اسرائیل کا دارالحکومت کیوں؟ حصہ چہارم و آخر
Editor نے Saturday، 16 December 2017 کو شائع کیا.