ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافہ – ایک نئی سازش

مسعود انور

www.masoodanwar.com

masoodsahab@yahoo.com

bankersاسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ ہم ڈالر کو 98 روپے میں لائیں گے۔ پھر تین ماہ میں دیکھتے ہی دیکھتے ان کا یہ دعویٰ درست بھی ہوگیا۔ اس پر ہر شخص خوش ہے۔ کیا مین اسٹریم میڈیا اور کیا سوشل میڈیا، ہر جگہ خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں۔ کیا عام آدمی اور کیا ماہر معاشیات ، ہر شخص اس پر حکومت کو شاباشی دے رہا ہے۔ ڈار صاحب ہیں کہ ہر جگہ سینہ پھلائے گھوم رہے ہیں اور سامنے آنے والے ہرشخص پر پھبتی کس رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کسی نے بھی اس کہانی کے پیچھے کی کہانی بتانے کی کوشش نہیں کی۔ سب سے پہلے تو ڈالر کو گرانے کی کہانی دیکھتے ہیں اور پھر اس کے پاکستانی معیشت پر اثرات کو بھی دیکھتے ہیں۔

ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں سرکاری کوششوں کے بعد اضافہ نے کم از کم یہ بات تو ثابت کر ہی دی کہ یہ سب کچھ مصنوعی تھا۔ جس طرح یہ اضافہ کیا گیا تھا بالکل اسی طرح اس میں کمی بھی لائی جاسکتی ہے۔ معاشیات میں مارکیٹ میں طلب اور رسد کا ایک اصول بڑی شدومد سے پڑھایا جاتا ہے اور کیا معاشیات کے طالب علم اور کیا استاد، سب اس پر اندھا یقین بھی رکھتے ہیں۔ اسی اصول کو بنیاد بنا کر روز اخبارات و چینل کے نام نہاد ماہرین عوام کو بتاتے ہیں کہ کیوں کر اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا اور کیوں وہ کریش کرگئی۔ دیکھا جائے تو مارکیٹ میں عملا اس طرح کا کوئی اصول کام ہی نہیں کررہا ہوتا۔ یہ اجارہ دار ہوتے ہیں جو خود سے نرخ بڑھاتے اور گھٹاتے ہیں ۔ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع بٹورنا ہوتا ہے جو اصل لاگت سے کئی سو گنا بھی زائد ہوسکتا ہے جیسا کہ سونا، پٹرول و بجلی وغیرہ ۔اسی اصول کے نام پر پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں راتوں رات اضافہ بھی کیا گیا اور اب کمی بھی لائی گئی۔ کسی بھی کرنسی کی قدر نہ تو چند لاکھ خریدنے سے بڑھتی ہے اور نہ ہی چند لاکھ فروخت کرنے سے۔ یہ قیمت متعین کرتے ہیں بینک۔ یہ بینک آپس میں خریداری کرتے ہیں اور چند پیسے بڑھا بڑھا کر اسے چند دنوں میں دسیوں روپے تک بڑھا دیتے ہیں۔ بینک سے باہر کی مارکیٹ میں ان ہی کے پارٹنر (منی چینجر) یہی کھیل ان کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں۔

اب اس کھیل کو سمجھنے کے بعد اس میں میاں نواز شریف کا کمال دیکھتے ہیں۔ نواز شریف کے کھلاڑی ڈار صاحب نے سینہ ٹھونک کر یہ تو بتادیا کہ وہ ڈالر کو اصل سطح پر لے آئے ہیں۔مگر انہوں نے ایک دفعہ بھی یہ نہیں بتایا کہ کون کون لوگ یا ادارے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مصنوعی گراوٹ کے ذمہ دار تھے۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں ملک کی معیشت کی ایسی تیسی ہوگئی۔ملک کو سیکڑوں کھرب روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ مگر اس کے کھلاڑی آرام سے اپنی تجوریاں بھرنے کے بعد نئے راوٴنڈ کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ مت کہئے کہ یہ سب خانانی اور کالیا کا کیا دھرا تھا۔ وہ بہت ننھے سے کھلاڑی تھے۔ یہ کھیل تھا ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بینکوں کے مالکان کا اور ان سب نے یہ کھیل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری کے ساتھ کھیلا۔ یہ سارے کھلاڑی بین الاقوامی بینکاروں کے نمائندے تھے۔ یہی وجہ ہے نواز شریف اور ڈار ان سب کے بارے میں مکمل طور پر خاموش ہیں۔ کیوں کہ یہی بین الاقوامی بینکار ہی انہیں اقتدار میں لائے ہیں اور ان بینکاروں کے بارے میں ذرا سی بھی جنبش نہ صرف انہیں اقتدار سے باہر کرسکتی ہے بلکہ جیل سے بھی آگے پھانسی گھاٹ تک بھی پہنچاسکتی ہے۔ ویسے تو نواز شریف اور خصوصا اسحٰق ڈار کی گزشتہ معاشی پالیسیوں پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے کہ کیوں کر انہوں نے اپنے اور آقاوٴں کے مفادات کے لیے پاکستانی معیشت کو قبرستان میں پہنچادیا ۔ اس وقت تو تھا یہ ایک مختصر سا پس منظر۔

اب دیکھتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت گرائی کیوں گئی اور پھر اس کے بعد اس کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ نواز شریف نے آتے ہی پہلا اعلان ملک کے اثاثوں کی نجکاری کا کیا ہے۔ بلکہ یہ اثاثے فروخت بھی نہیں کیے جائیں گے۔ ایسے ہی آقاوٴں کے نمائندوں کے حوالے کردیے جائیں گے۔ اس کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی اصطلاح متعارف کروائی گئی ہے۔ اسی اصطلاح کے مطابق پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص صرف 800 ملین ڈالر کے عوض اتصالات کے حوالے کیے گئے تھے۔ اتصالات نے نہ تو پی ٹی سی ایل میں کوئی سرمایہ کاری کی اور نہ ہی یہ رقم اب تک مکمل طور پر حکومت کے حوالے کی ہے۔ تاہم اتصالات نے ایک کام ضرور کیا ہے اور وہ یہ کہ پی ٹی سی ایل کی تمام جائیداد کو بینکوں میں گروی رکھ کر اس کے عوض بھاری رقم ضرور حاصل کرلی ہے ۔ اب پی آئی اے، پاکستان اسٹیل سمیت دیگر ادارے بھی اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کردیے جائیں گے۔اب جب یہ غیر ملکی بینک یا ملٹی نیشنل کمپنیاں ان اداروں کے 26 فیصد حصص کی بات کریں گی تو وہ روپے کی قدر بڑھ جانے کے باعث ڈالروں میں کم ہوجائے گی اور اس طرح انہیں اس سے مزید اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔جیسے ہی نجکاری کا یہ کھیل مکمل ہوگا، ڈالر دوبارہ سے اپنی پرانی سطح پر واپس آچکا ہوگا۔

اب ڈالر کی قدر روپے کے مقابلے میں کم ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت پر اس کے اثرات کا مختصرا جائزہ لیتے ہیں۔ ڈالر کی قدر کم ہوتے ہی درامدات سستی ہوجائیں گی اور برامدات مہنگی۔ گذشتہ تین ماہ میں ٹیکسٹائل کے برامد کنندگان نے، چاول والوں نے یا پھر مچھلی کے برامد کنندگان وغیرہ وغیرہ نے جو بھی سودے کیے تھے وہ اس وقت کی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے تھے۔ اب یا تو انہیں شدید نقصان اٹھانا پڑے گا یا پھر انہیں اپنے سودے منسوخ کرنے پڑیں گے۔ درامدات بڑھ جانے اور برامدات کے کم ہونے سے ملک میں تجارت کا توازن جو پہلے سے ہی خسارے کا شکار ہے مزید بگڑ جائے گا۔ برامدی آرڈر منسوخ ہونے سے ملک میں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ سستی درامدات بھی ملکی صنعت کے لیے دو دھاری تلوار کا کام کرے گی اور ملکی صنعتیں مقابلہ نہ کرسکنے کے باعث بین الاقوامی منڈی کے ساتھ ساتھ ملکی منڈی سے باہر ہوجائیں گی۔یہ ہے وہ تاریک نتیجہ جو ڈار ی اقدامات کے نتیجے میں نکلے گا۔

اگر ڈار یا نواز شریف ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اتنے ہی مضطرب ہیں تو انہیں ڈالر کی قیمت کو منجمد کردینا چاہیے تھا۔ اس کے ذمہ دار مجرموں کے خلاف کارروائی کرکے اس کی تلافی کرنا چاہئے تھی۔ اگر کسی کی آنکھ میں مرچ گر جائے تو اس کا علاج مرچ کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے آنکھ میں نمک یا لیموں کا رس ڈالنا نہیں ہے۔ ڈار نے ملکی معیشت کے ساتھ یہی کھلواڑ کیا ہے۔ اگر کوئی دانستہ کسی کے جسم کو زخمی کردے تو پھر اس سے تاوان وصول کیا جاتا ہے تاکہ مضروب کی تلافی ہوسکے۔ ان کھلاڑیوں کے اثاثہ جات وصول کرکے پاکستانی صنعت کی بحالی پر خرچ کیے جاتے۔ ڈار نے یہ تو کیا نہیں۔ انہوں نے الٹا ان ہی کھلاڑیوں کو راتوں رات مزید اربوں روپے سمیٹنے کا ایک موقع اور فراہم کردیا۔ نواز شریف ، ڈار یا ان کی ٹیم جو بھی کررہی ہے، وہ درست کررہی ہے کہ آقاوٴں کی یہی ہدایت ہے ، میڈیا بھی بالکل درست کررہا ہے کہ یہ تمام کے تمام ان ہی بینکاروں کے دست نگر ہیں گر حیرت تو ماہرین معاشیات پر ہے کہ وہ عوام کو درست صورتحال بتانے کے بجائے تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھک رہے۔

بین الاقوامی سازش کاروں کو اور ان کے ایجنٹوں کو پہچان لیجئے کہ یہ بھی دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام میں کوشاں ہیں۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔ ہشیار باش۔