Paris 1پیرس میں دہشت گردی حصہ دوم

مسعود انور

www.masoodanwar.com

masoodsahab@yahoo.com

تاریخ ایسے شواہد سے بھری پڑی ہے جس میں دہشت گردی کی کارروائی کرکے اسے دشمن سے موسوم کردیا گیا ہو اور پھر اسے جواز بناکر مقصد حاصل کیا گیا ہو۔ دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کو انگریزی میں بوبی ٹریپ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پہلے ایسے شواہد کو دیکھتے ہیں اور پھر اس کے بعد سانحہ پیرس پر گفتگو کریں گے۔

یہ 1931 کی بات ہے کہ جاپانی دستوں نے اپنے ہی ملک میں ایک ٹرین ٹریک پر دھماکا کیا اور اس کا الزام چین پر لگا کر چینی علاقے مانزو پر چڑھائی کردی اور اس پر قبضہ کرلیا۔ بعد ازاں ٹوکیو وار کرائمز ٹرائل میں اس امر کا انکشاف ہوا کہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں خود جاپان شامل تھا۔ اس واقعے کو سانحہ مانزو یا Manchurian Incident کے نام سے انٹرنیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔

نازیوں کے ایک میجر نے نیورمبرگ کے ٹرائل میں اس امر کا اعتراف کیا کہ گسٹاپو کے سربراہ کے احکامات پر وہ اور اس کے ساتھی اپنے ہی لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے تھے تاکہ اس کا الزام پولینڈ پر لگا کر اس پر قبضے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ اسے انٹرنیٹ پر Gleiwitz incident کے نام سے دیکھا جاسکتا ہے۔

نیورمبرگ ٹرائل کے دوران ہی نازی جنرل فرانز ہالڈر نے اس امر کا اعتراف کیا کہ نازی رہنما ہرمین گوئرنگ نے 1933 میں جرمن پارلیمنٹ کی بلڈنگ کو نذر آتش کردیا تھا تاکہ اس کی ذمہ داری کمیونسٹوں پر عائد کی جاسکے۔ اس واقعے کو  Reichstag fire کے نام سے انٹرنیٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

سوویت رہنما نکیٹا خروشیف نے تحریری طور پر اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ سوویت یونین کی فوج نے 1939 میں مینیلا میں روسی دیہات پر زبردست بمباری کی تھی اور اس کا الزام فن لینڈ کی فوج پر لگا کر فن لینڈ کے خلاف ونٹر وار کا آغاز کردیا تھا۔ اس واقعے کو انٹرنیٹ پر Shelling of Mainila کے نام سے دیکھا جاسکتا ہے۔

روسی پارلیمنٹ ، موجودہ روسی صدر پیوٹن اور سابق روسی صدر گورباچیف اس امر کا اعتراف کرچکے ہیں کہ سابق روسی آمر جوزف اسٹالن نے 1940 میں پولش فوجیوں اور شہریوں کو قتل کرنے کا خفیہ حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے بعد بائیس ہزار افراد قتل کردیے گئے تھے۔ اس قتل عام کی ذمہ داری نازیوں پر ڈال دی گئی تھی۔

برطانوی حکومت اس امر کا اعتراف کرچکی ہے کہ 1946 اور 1948 کے درمیان اس نے یہودیوں سے بھرے پانچ جہازوں کو بمباری کرکے ڈبودیا تھا۔ یہ یہودی یورپ سے موت کے خوف سے فرار ہو کر فلسطین جارہے تھے۔ اس بمباری کی ذمہ داری برطانیہ ہی کے قائم کردہ ایک جعلی جہادی گروپ عربی فلسطین کے دفاع کار Defenders of Arab Palestine نامی گروپ نے بھی فوری طور پر قبول کرلی تھی۔ اس کا تذکرہ حال میں ہی شائع کی گئی ممتاز برطانوی مورخ Keith Jeffery  کی کتاب MI6: The History of the Secret Intelligence Service 1909-1949,  میں کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے اس امر کا اعتراف کیا ہے 1954 میں اسرائیلی دہشت گردی کے ایک سیل نے مصر کے شہروں قاہرہ اور اسکندریہ میں امریکی اور برطانوی سفارتخانے کی عمارتوں سمیت کئی عمارتیں بم نصب کرکے تباہ کیں تاکہ اس کا الزام عرب انتہا پسندوں پر عائد کیا جاسکے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جاسکے۔ اس میں سے ایک بم قبل از وقت ہی پھٹ گیا جس سے مصری حکام کو بمبار کے بارے میں معلومات مل گئیں اور یہ سازش بے نقاب ہوئی۔ اس واقعے کے پچاس برس کے بعد 2005 میں اسرائیلی صدر کتساف Katsav نے یروشلم میں ایک تقریب میں اس سازش کے بچ جانے والے کرداروں میں سرٹیفکٹ تقسیم کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔

اطالوی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ General Gianadelio Maletti نے اس امر کا اعتراف کیا کہ 1950 میں ناٹو نے پینٹاگون اور سی آئی اے کی مدد سے اٹلی اور دیگر یوروپی ممالک میں دھماکے کیے تاکہ اس کاالزام کمیونسٹوں پر عائد کر کے یوروپی ممالک میں رائے عامہ کو کمیونسٹوں کے خلاف ہموار کیا جاسکے۔ General Gianadelio Maletti اس پروگرام پر عملدرامد کروانے والوں میں سے ایک تھا۔ اطالوی جنرل کہتا ہے کہ اسے کہا گیا کہ تمہیں عام شہریوں، عورتوں، بچوں اورایسے معصوم لوگوں کونشانہ بنانا ہے جن کا سیاست سے دور پرے کا بھی کوئی واسطہ نہ ہو ۔ اس کی وجہ انتہائی سادہ تھی۔ وہ یہ کہ اٹلی کے لوگوں کو اس امر پر مجبور کیا جاسکے کہ وہ اپنی حکومت سے مطالبہ کریں کہ ان کی سلامتی کے لیے جو بھی ضروری اقدامات ہیں وہ کیے جائیں۔ ناٹو، سی آئی اے اور پنٹاگون نے دہشت گردی کی یہ کارروائیاں دیگر یوروپی ممالک کے تعاون سے فرانس، بلجیئم، ڈنمارک، جرمنی، یونان ، نیدرلینڈ، پرتگال اور برطانیہ میں بھی کیں۔

تاریخ کا یہ سفر جاری ہے۔ مزید شواہد آئندہ کالم میں ان شاءللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا میں ایک عالمگیرشیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔