Paris 1پیرس میں دہشت گردی حصہ سوم

مسعود انور

www.masoodanwar.com

masoodsahab@yahoo.com

تاریخ میں ایسے شواہد کی کوئی کمی نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ دہشت گردی کرنے والے وہی لوگ تھے جو دیکھنے میں دہشت گردی کا شکار تھے ۔ مندرجہ ذیل شواہد اسی ضمن میں پیش کیے جارہے ہیں تاکہ پروپیگنڈہ کی گرد کے پیچھے چھپی حقیقت کو دیکھا جاسکے۔

سی آئی اے اس امر کا اعتراف کرچکی ہے کہ ایران میں مصدق کی جمہوری حکومت کے خاتمے اور شاہ ایران رضا پہلوی کو واپس اقتدار میں لانے کے لیے اس نے ایرانیوں کی بھرتی کی اور ان کے ذریعے ایران بھر میں دھماکے اور فسادات کیے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری کمیونسٹوں پر عائد کی گئی۔

ترک حکومت نے اس امر کا اعتراف کیا کہ ترکی کی حکومت نے 1955 میں یونان میں ترکی کے قونصلیٹ پر خود دھماکے کروائے تھے تاکہ اسے یونانیوں کے خلاف کارروائی کا جواز بنایا جاسکے۔ اس کے بعد استنبول میں یونانیوں کے خلاف فسادات پھوٹ پڑے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دستاویزات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میکمیلن اور امریکی صدر آئزن ہاور نے 1957 میں ایک منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت شام میں اسلامی انتہاپسندوں کی سرپرستی کی گئی اور ملک بھرمیں فسادات اور دھماکے کیے گئے تاکہ اس کا الزام شامی حکومت پر لگا کر حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار کی جاسکے۔

ایسے ہی جعلی دہشت گردی کے واقعے کو بنیاد بنا کر حملہ کرنے کے لیے 1960 میں امریکی سینیٹر جارج اسماتھرز نے تجویز پیش کی تھی کہ گوانتا نامو بے پر دہشت گردانہ کارروائی کی جائے جسے بنیاد بنا کر امریکا کیوبا میں بھرپور فوجی کارروائی کرے اور فیڈل کاسترو کا تخت الٹ دیا جائے۔

امریکا کی ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی دستاویزات کے مطابق 1961 میں امریکا جمہوریہ ڈومینیکا میں اپنے حملے کے جواز کے لیے ڈومینیکا میں اپنے ہی قونصلیٹ کو دھماکے سے اڑانے کی تجویز پر سنجیدگی سے اعلیٰ سطح پر غور کررہا تھا۔ تاہم اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا۔

ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی ان ہی دستاویزات کے مطابق 1962 میں امریکی حکومت کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے تجویز پیش کی تھی کہ ایک امریکی مسافر بردار جہاز پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا جائے اور اسے کمیونسٹوں کا امریکی سرزمین پر حملہ قرار دیا جائے تاکہ کیوبا پر امریکی حملے کا جواز تلاش کیا جاسکے۔

1963  میں امریکی محکمہ برائے دفاع نے ایک اور تجویز پیش کی جس کے تحت امریکی ریاستوں کی تنظیم کے اندر علاقوں جیسا کہ ٹرینی ڈاڈ، ٹوباگو اور جمیکا پر حملوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بابت کہا گیا تھا تاکہ اس کا ذمہ دار کیوبا کو ٹھیرا کر اسے سزا دی جاسکے۔

ڈی کلاسیفائیڈ کی گئی ان ہی دستاویزات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع اس تجویز کا بھی پرزور حامی تھا کہ کاسترو حکومت کے کسی اہم کمانڈر کو رشوت کے ذریعے گوانتا نامو بے پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔

امریکا کی نیشنل سیکوریٹی ایجنسی نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اس نے ٹونکن کی خلیج میں 1964 کو ہونے والے سانحے کے بارے میں جھوٹ بولا اور واقعات کو اس طور پر پیش کیا کہ یہ تاثر پیش کیا جاسکے کہ شمالی ویتنام کی گن بوٹ نے امریکی جہاز پر فائرنگ کی تھی۔ پھر اسی واقعے کو بنیاد پر امریکا نے ویتنام پر حملہ کرکے جنگ چھیڑدی۔

ایک ممتاز ترکی جنرل Sabri Yirmibesoglu  نے اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ ترک فوجوں نے1970 میں قبرص میں ایک مسجد کو آگ لگاکر تباہ کردیا تاکہ عوامی رائے کے ذریعہ مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔

امریکا کی ڈی کلاسیفائیڈ کی ہوئی ایک اور دستاویز کے مطابق 1973 میں سی آئی اے نے غیرملکی پولیس اور فوج کو بوبی ٹریپ بنانے کی باقاعدہ تربیت فراہم کی۔ اس پروگرام کا نام دہشت گردی کا مقابلہ رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت بتایا گیا کہ بوبی ٹریپ کے لیے دہشت گردی کے لیے درکار مواد بنیادی طور پر مقامی ہونا چاہیے تاکہ اس کا الزام مخالفین پر لگایا جاسکے۔

جرمن حکومت نے اس امر کا اعتراف کیا کہ اس کی خفیہ ایجنسی نے 1978 میں ایک جیل کی بیرونی دیوار کو دھماکے سے اڑایا اور ایک قیدی کے پاس جیل سے فرار کے لیے درکار اوزار اور لوازمات گرائے تاکہ ریڈ آرمی سے تعلق رکھنے والے اس قیدی کو جیل پر دھماکے کے الزام میں قید رکھا جاسکے۔

موساد کے ایک ایجنٹ نے اس امرکا اعتراف کیاکہ موساد نے 1984 میں تریپولی میں قذافی کے محل کے کمپاونڈ میں ایک ٹرانسمیٹر نصب کیا تھا جس سے موساد کی ریکارڈنگ کی گئی دہشت گردی کی جعلی ریکارڈنگ نشر کی جاتی تھیں تاکہ قذافی کو دہشت گردی کے فروغ کا مجرم ثابت کیا جاسکے۔ بعد میں اسے بنیاد بنا کر رونالڈ ریگن نے لیبیا پر بمباری کی اجازت دی تھی۔

دہشت گردی کے اصل کرداروں کی شناخت کے لیے تاریخ کا یہ سفر جاری ہے۔ بقیہ اہم شواہد آئندہ کالم میں ان شاءاللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔