CPEC سی پیک حصہ سوم و آخر

 مسعود انور

 www.masoodanwar.com

 hellomasood@gmail.com

سی پیک پر ہونے والے ترقیاتی کام کتنے دیرپا ہیں ۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ سڑکوں کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے۔ ایک خاص عرصے کے بعد انہیں دوبارہ بنانا ہوگا ۔ اس پورے پروجیکٹ میں اہم ترین بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہیں ۔ اگر بجلی ہوگی تو صنعتیں چلیں گی اور ملک ترقی کرے گا ۔ یہی وہ منصوبے ہیں جس کے اثرات دیرپا ہوں گے ۔ حیرت انگیز طور پر یہ منصوبے انتہائی مہنگے ہیں ۔ لگانے میں بھی اور پیداوار میں بھی ۔ نہ تو چین نے بجلی کی پیدوار کے لیے کوئی سستا حل پیش کیا اور نہ ہی پاکستان نے اس کے لیے کوئی جستجو کی ۔ چین کوئلے سے خود بھی سستی بجلی پیدا کرتا ہے مگر پاکستان کے لیے تھرمل پاور کا مہنگا ترین حل پیش کیا گیا ہے ۔ ہائیڈروپاور کے لیے اس مقام پر پلانٹ لگایا جارہا ہے جہاں پر بھارت پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں ڈیم بنا رہا ہے جس کے بعد یہاں کے دریا سوکھ جائیں گے۔ یہی چین سمندری لہروں سے بجلی بنانے کے یونٹ بھی بناتا ہے اور اس نے اسرائیل سمیت کئی ممالک کو یہ پلانٹ دیے بھی ہیں مگر پاکستان کے لیے حیرت انگیز طور پر ایسا کوئی حل موجود نہیں ہے ۔ اس صورتحال کو ہم اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ آج کے دور میں قحط کی صورتحال بدل گئی ہے ۔ اب اجناس تو موجود ہوتی ہیں مگر ان کی قیمت عام آدمی ادا نہیں کرسکتا ، اس لیے بھوک سے مرجاتا ہے ۔ اسی طرح بجلی تو موجود ہوگی مگر اتنی مہنگی کہ صنعتی پیداوار اس کا مقابلہ نہیں کرپائے گی اور عام آدمی کے بس میں اس کے بھاری بلوں کی ادائیگی ممکن نہیں ہوگی ۔ کسی بھی معاشی ماہر کے سامنے اس کے وہ معاشی نتائج نہیں آرہے جو حکومت بتارہی ہے ۔

سی پیک (CPEC) کے پاکستان پر کیا نتائج نکلیں گے؟ یہ وہ اہم ترین سوال ہے جس پر کوئی بھی سنجیدہ گفتگو کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ہر شخص ایک عالم بے خودی میں گھوم رہا ہے کہ پاکستان کے دن پھر گئے ۔ سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ جدید دور میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہے اور نہ مستقل دشمن ۔ سارا کھیل مفادات کا ہے ۔ جہاں پر مفادات ایک ہوئے ، سب دوست ہیں اور جہاں پر مفادات کا تنازعہ پیدا ہوا ، دشمن ہوگئے ۔ دوست دشمن کا یہ کھیل اسی طرح جاری رہتا ہے ۔ اگر اس تناظر میں ہم معاملات کو دیکھیں تو بہت ساری پوشیدہ باتیں سمجھ میں آنے لگ جاتی ہیں ۔ آگے بڑھنے سے قبل اس حقیقت کو دوبارہ سے سمجھ لیجیے کہ پاکستان حکومت چین کا نہیں بلکہ چینی بینکوں کا مقروض ہوگا اور ان چینی بینکوں کے مالکان وہی ہیں جو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر امریکی و یورپی بینکوں کے ہیں ۔ اس حقیقت کو جاننے کے بعد صورتحال کو جاننا آسان ہوجاتا ہے ۔

یہ دو ہزار کی پہلی دہائی کی بات ہے کہ چین نے اپنے پڑوسی ملک تاجکستان میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کے لیے کام شروع کیا ۔ ظاہر سی بات ہے کہ کمزور معیشت کے ایک ملک کے پاس وسائل ہوتے تو خود ہی اپنا انفرا اسٹرکچر درست نہ کرلیتا ۔ منطقی طور پر تاجکستان کو چین نے قرض بھی فراہم کرنے شروع کردیے اور انسانی وسائل بھی ۔ اس طرح چینی پیسہ تاجکستان سے گھوم پھر کر دوبارہ سے چین پہنچ گیا ۔ تاجکستان پرچین کی ابتدائی سرمایہ کاری 720 ملین ڈالر کی تھی ۔ تاجکستان بھی یہ قرض ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور ڈیفالٹ کررہا تھا ۔ چینی قرض کے بوجھ تلے تاجک حکومت چین کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعے کو چین کی مرضی کے مطابق طے کرنے پر مجبور ہوگئی اور 2011 میں اس نے باقاعدہ طور پامیر کے پہاڑی سلسلے میں اپنا ایک ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ چین کے حوالے کردیا ۔ یہ علاقہ تاجکستان کے کسی کام کا تھا یا نہیں ، اس سے قطع نظر چین کے انتہائی کام کا تھا ۔ اس علاقے کے چین کے کنٹرول میں آتے ہی چین کے افغانستان کے ساتھ براہ راست سرحدی تعلق قائم ہوگیا اور اب افغان سرحد کے اندر چینی فوج مشترکہ پٹرولنگ کرتی ہے۔ا س سے قبل چین کی افغانستان کے ساتھ مختصر سرحد پاکستانی علاقے واخان کے ساتھ تھی ۔

اب صورتحال کو دوبارہ سے دیکھتے ہیں ۔ پاکستان چینی بینکوں کا مقروض ہوگا ۔ یہ بینک عالمی بینکاروں کے ہیں اس طرح پاکستان عالمی بینکاروں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہوگا ۔ نادہندگی کی صورت میں پاکستان کو ان کے وہ تمام مطالبات ماننے ہوں گے جو وہ املا کروائیں گے ۔ یہ مطالبات اس طرح کے بھی ہوسکتے ہیں جو پنٹاگون کے تھنک ٹینک پاکستان کے تین ٹکڑوں کی صورت میں ایک نقشے میں پیش کرچکے ہیں ۔ یہ مطالبات جو بھی ہوں گے پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوں گے ۔

یہ بھاری قرض پاکستان کے گلے میں ڈالنے کا ماحصل کیا ہوا؟ بہتر ہے کہ پاکستان کے ماہرین توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں پر توجہ دیں ۔ سمندری لہروں سے مفت اور آلودگی سے پاک بجلی پیدا کریں ۔ شمالی علاقوں میں بھی لہروں سے بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے ٹربائن لگائے جائیں ۔ بجلی وافر مقدار میں پیدا کرنے کے ساتھ ہی پاکستان پر پٹرولیم کا بل بھی آدھا رہ جائے گا اور صنعتی پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی جس سے پاکستان کی برامدات میں اضافہ ہوگا اور اس سے روزگار بھی ملے گا ۔ پاکستانی حکومت اپنے انسانی وسائل پر اللہ کا شکر کرے اور ان کا درست استعمال کرے ۔ ان قرضہ جات کو مناسب حد میں رکھا جائے تاکہ اس سے فائدہ بھی اٹھایا جاسکے اور ان کی بروقت ادائیگی بھی کی جاسکے ۔ یہ بات جان لیجیے کہ چینی حکومت بھی ان بینکاروں کے اتنے ہی چنگل میں ہے جتنا کوئی اور ملک ۔ اگر چینی حکومت کو مزید قرض نہ ملے تو ان کے ہاں بھی ایسے ہی فسادات کروائے جاسکتے ہیں جیسے تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں ۔ جب چاہیں گے یہ بینکار اپنے مقاصد کے چینی حکومت کو موم کی ناک کی طرح موڑ کر وہ کام لے لیں گے جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دینے کے بجائے ایسے کسی بھی وقت کے لیے ابھی سے پیش بندی کرکے رکھیے ۔

اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔