OBL deathاسامہ بن لادن کی موت حصہ اول

مسعود انور

www.masoodanwar.com

hellomasood@gmail.com

اسامہ بن لادن کی پہلی برسی پر جسارت میں شایع شدہ میرے کالم دوبارہ سے پیش خدمت ہیں جو ابھی تک اتنے ہی تازہ ہیں ۔

 اسامہ بن لادن کی موت ان کی حیات کی طرح آخر تک ایک معمہ ہی بنی رہی ۔ ان کی موت کے انکشافات نائن الیون کے فوری بعد سے ہی شروع ہوگئے تھے ۔ یہ انکشافات کرنے والے کوئی معمولی لوگ نہیں تھے بلکہ اس میں وہ تمام شخصیات شامل ہیں جن کو ہم کو ہم معتبر، ثقہ اور درون خانہ ہونے والی سازشوں سے باخبر بلکہ بعض صورتوں میں ان سازشوں میں شامل سمجھ سکتے ہیں ۔ تاہم اس کا ڈراپ سین پاکستانی وقت کے مطابق 2 مئی کو اور امریکی وقت کے مطابق یکم مئی کو اس وقت ہوا جب مسٹر اباما نے تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ اعلان کیا کہ اسامہ مرچکا ہے ۔

اسامہ کی موت کی طرح ان کی لاش بھی ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے ۔ مسٹر اباما نے اعلان کیا کہ اسامہ کی لاش کو مرجع عوام بننے سے روکنے کے لئے سمندر برد کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے اسامہ کی لاش کی تصاویر جاری کرنے سے انکار کردیا کہ اس سے بقول ان کے دنیا بھر میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا مگر یہ تصاویر دنیا کی کئی ویب سائٹس پر نظر آئیں اور یار لوگوں نے اسے لیک Leak کا کارنامہ قرار دیا ۔ جب کوئی سرکار کسی راز کو سرکاری طور پر افشاء نہیں کرنا چاہتی اور یہ بھی چاہتی ہے کہ اس راز کو پبلک کر دیا جائے تو اس کو کوئی بھی سرکاری افسر کسی بھی صحافی پر نظر کرم کرتے ہوئے اسے لیک کردیتا ہے ۔ اس سے سرکار کا کام بھی بن جاتا ہے اور اس راز کی بھرپور طریقے سے تشہیر بھی ہوجاتی ہے ۔ یہ تمام تصاویر جس میں اسامہ کے چہرے پر زخم نظر آرہے ہیں ، کا جب پوسٹ مارٹم کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ تو فوٹو شاپ کا کارنامہ ہے جس میں چہرے کا نچلا حصہ تو اسامہ کا اصلی ہی ہے مگر اوپر کا حصہ کسی اور مردہ شخص کا لگا دیا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد یہ تصاویر ان ویب سائٹس سے خاموشی سے ہٹادی گئیں جنہوں نے اس دعوے کے ساتھ اس کو اپنی ویب سائٹ پر لگایا تھا کہ یہ ان تک خاص ذریعے سے پہنچی ہے۔ بعد میں جعلی تصویر لگانے کا یہ الزام بھی ان پر ہی لگا دیا گیا جو اس جھوٹ کو پکڑ رہے تھے اور کہا گیا کہ یہ امریکی حکومت کو بدنام کرنے سازش ہے۔

اسامہ کی موت کا سب سے پہلے انکشاف اپریل 2002 میں امریکی تھنک ٹینک کاو

¿نسل آن فارن ریلیشن (CFR) کے رکن Steve R. Pieczenik نے امریکہ کے مشہور ٹاک شو الیکس جانز شو میں کیا۔ اسٹیو کوئی معمولی شخصیت نہیں ہے۔ اس کا تعلق CFR سے ہے جو امریکا میں بادشاہ گر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ امریکا کا آئندہ صدر اور برطانیہ کا آئندہ وزیر اعظم کون ہوگا۔ یہی ادارہ امریکا میں ججوں کی تقرری سے لے کر سیینیٹروں کے انتخاب تک کا اور اہم کلیدی اسامیوں پر تقرری کا فیصلہ کرتا ہے۔ اسٹیو ہنری کسنجر، سائرس وانس اور جیمز بیکر کے ساتھ امریکا کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ کے اہم عہدے پر خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ اسٹیو کی ایک اور بھی خاص اہمیت ہے۔ وہ یہ کہ اسٹیو افغانستان پر روسی حملے کے بعد جاری افغان جہاد کے دوران 70 اور 80 کے عشرے میں جہادی رہنماو¿ں کے ساتھ رابطے، ان کو اسلحے اور فنڈ کی فراہمی کے ذمہ داروں میں بھی شامل تھا۔ اس طرح اس کے تعلقات براہ راست تمام جہادی رہنماو¿ں کے ساتھ تھے جس میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔ اس طرح ہم اسٹیو کو گھر کے بھیدی کا درجہ دے سکتے ہیں اور اس کے انکشافات کو گھر کی گواہی کا۔ اسٹیو نے اس شو میں جس کے کلپ اب بھی یو ٹیوب پر موجود ہیں، برملا کہا کہ اسامہ کو مرے ہوئے کئی ماہ ہوچکے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اسامہ کی موت نائن الیون کے واقعے سے پہلے ہوچکی تھی۔

24 اپریل 2002 کو دیے جانے والے اس انٹرویو میں اسٹیو نے کہا کہ اسامہ کو گردوں کی بیماری لاحق تھی اور بطور ایک فزیشین میں جانتا ہوں کہ اس کو ڈائیلاسز کے لئے دو مشینیں درکار تھیں۔ وہ مرچکا ہے۔

’آپ وہ تصاویر اور ویڈیوز دیکھیں جو ہمیں کسی نامعلوم مقام سے بھیجی جارہی ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ اچانک ہم بن لادن کی ایک ویڈیودیکھتے ہیں جو گمنام ذریعے سے موصول ہوتی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ یہ کسی نامعلوم مقام سے نامعلوم شخص نے نامعلوم ذریعے سے بھیجی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری حکومت نے یا حکومت کے کسی شخص نے بھیجی ہے تاکہ ہماری طرف کے لوگوں کا مورال بلند رہے اور ہم ان کو بتاتے رہیں کہ ہم اس کا پیچھا کررہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کئی ماہ پہلے ہی مرچکا ہے۔‘

اسٹیو نے کہا کہ نائن الیون کے فوری بعد ایک ویڈیو میں موصول ہوئی جس میں ایک موٹا سا بن لادن نائن الیون کے واقعے کی تمام تر ذمہ داری کو قبول کررہا ہے۔ یہ ویڈیو دسمبر 2001 میں جاری کی گئی اور یہ ایک hoax کے سوا کچھ نہیں تھی تاکہ عوامی جذبات کو استعمال کیا جاسکے۔

اسٹیو کا کہنا تھا کہ بن لادن کے خاندان کو یہ حقیقت معلوم ہے اور اس خاندان نے ایک معاہدے کے تحت اس خبر کو چھپایا۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرف نے حادثاتی طور پر اس حقیقت کوا

±س وقت آشکارا کردیا تھا جب اس نے یہ بیان دیا کہ بن لادن مرچکا ہے کیوں کہ مشرقی افغانستان میں اس کی گردوں کی ڈائیلاسز کی مشینیں تباہ ہوچکی ہیں۔

اسی الیکس جونز جس کے پروگرام میں اسٹیو نے یہ انکشافات کیے تھے، نے اگست 2002 میں پھر کہا کہ اس کو ریپبلیکن پارٹی کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اسامہ مرچکا ہے اور اس کے مردہ جسم کو سردخانے میں محفوظ کرلیا گیا ہے۔ اس کا انکشاف کسی مناسب وقت پر کیا جائے گا تاکہ اس سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ الیکس جونز کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ذریعے کو کہا کہ یہ محض ایک افواہ بھی تو ہوسکتی ہے تو اس کے ذریعے نے اصرار کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے خود اسامہ کو مجسم برف خانے میں دیکھا ہے۔

اسامہ کی موت کی یہ تو ایک گواہی تھی۔ اس کو متعدد مرتبہ خبروں میں مارا گیا۔ ان کا تذکرہ اگلے کالم میں انشاءاللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش۔