OBL deathاسامہ بن لادن کی موت حصہ دوم

مسعود انور

www.masoodanwar.com

hellomasood@gmail.com

جیسا کہ میں نے اپنے گذشتہ کالم میں لکھا تھا کہ اسامہ بن لادن کی موت ان کی حیات کی طرح آخر تک ایک معمہ ہی بنی رہی ۔ ان کی موت کے انکشافات نائن الیون کے فوری بعد سے ہی شروع ہوگئے تھے ۔ یہ انکشافات کرنے والے کوئی معمولی لوگ نہیں تھے بلکہ اس میں وہ تمام شخصیات شامل ہیں جنہیں ہم معتبر، ثقہ اور درون خانہ ہونے والی سازشوں سے باخبر بلکہ بعض صورتوں میں ان سازشوں میں شامل سمجھ سکتے ہیں ۔ تاہم اس کا ڈراپ سین پاکستانی وقت کے مطابق دو مئی کو اور امریکی وقت کے مطابق یکم مئی کو اس وقت ہوا جب مسٹر اباما نے تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ اعلان کیا کہ اسامہ مرچکا ہے ۔ آئیے ان انکشافات کا ترتیب وار جائزہ لیتے ہیں ۔

سابق سی آئی اے افسر اور انٹیلی جنس وخارجہ پالیسی کے ماہر رابرٹ بیئر سے جب ایک امریکی ریڈیو کے پروگرام کے میزبان نے 2008 میں اسامہ بن لادن کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے قطعی طور پر کہا کہ “بالکل ، وہ مرچکا ہے” ۔

26  دسمبر 2001 کو فاکس نیوز نے پاکستان آبزرور کی ایک اسٹوری کے حوالے سے خبر نشر کی کہ افغان طالبان نے اسامہ بن لادن کی موت کا اعلان کردیا ہے ۔ ان کو ایک گمنام قبر میں دفن کیا گیا ہے ۔

18جنوری 2002 کو اس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ ” میرا اب یہ خیال ہے کہ وہ مرچکا ہے ۔ “

17 جولائی 2002 کو ایف بی آئی کے انسداد دہشت گردی کے ونگ کے اس وقت کے سربراہ ڈیل واٹسن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ” یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ (اسامہ بن لادن) اب نہیں ہے ۔ “

اکتوبر 2002 میں افغان صدر حامد کرزئی نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” مجھے اس پر یقین ہے کہ وہ مرچکا ہے ۔ “

2003  میں امریکا کی سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ میڈیلین البرائٹ نے فاکس نیوز کے تجزیہ کار مارٹن کانڈریک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے شبہ ہے کہ بش اسامہ کے بارے میں جانتے تھے اور وہ مناسب وقت کا انتظار کررہے تھے کہ اس کو پکڑنے کا اعلان کرکے زیادہ سے زیادہ سیاسی مفاد حاصل کرسکیں ۔

نومبر 2005 میں امریکی سینیٹر ہیری ریڈ نے انکشاف کیا کہ اس کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اکتوبر میں آنے والے زلزلے میں اسامہ مارا گیا ہے ۔

فروری 2007 امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی کے مذہبی پروگرام کے سربراہ پروفیسر بروس لارنس نے کہا کہ اسامہ کی جتنی بھی ویڈیوز جاری کی جارہی ہیں وہ سب جعلی ہیں اور ممکنہ طور پر وہ (اسامہ) مرچکا ہے ۔

2  نومبر 2007 کو بے نظیر بھٹو نے الجزیرہ ٹی وی کے میزبان ڈیوڈ فراسٹ کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ عمر شیخ نے اسامہ بن لادن کو قتل کردیا ہے ۔

 امریکا کے سابق انٹیلی جنس افسر اور بوسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیر اینجیلو کوڈیویلا نے مارچ 2009 میں کہا کہ ” اسامہ بن لادن کے مقابلے میں ایلوس پریسلے کی زندگی کے بارے میں زیادہ شہادتیں موجود ہیں ۔ ”  واضح رہے کہ مشہور انگریزی گلوکار ایلوس پریسلے کا اس وقت انتقال ہوچکا تھا ۔

مئی 2009 میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے گذشتہ سات برسوں سے اسامہ بن لادن کے بارے میں کچھ نہیں سنا ۔ زرداری کا کہنا تھا کہ ” میرا نہیں خیال کہ وہ زندہ ہے ۔ “

امریکی تھنک ٹینک کاونسل آن فارن ریلیشن (CFR) کے رکن Steve R. Pieczenik  کی شہادت کا ذکر گذشتہ کالم میں ہی کیا جاچکا ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ اسامہ کی موت نائن الیون کے واقعے سے پہلی ہی ہوچکی تھی اور اسامہ کی لاش برف خانے میں محفوظ کرلی گئی تھی ۔

ان تمام شہادتوں کو دیکھیے ۔ اس کے بعد محمد بشیر کی عینی شہادت کو دیکھیے کہ ایبٹ آباد آپریشن والے دن کوئی ہیلی کاپٹر نیچے اترا ہی نہیں تو پھر وہ کس کو لے کر گیا ؟ جب پاکستانی فوج اور ایجنسیوں نے ہیلی کاپٹر پھٹنے کے پندرہ منٹ کے اندر اندر کمپاونڈ کا چارج سنبھال لیا تھا اور تمام مردہ اجسام پاکستانی فوجیوں نے ہی کمپاونڈ سے ہٹائے تھے تو پھر اس میں امریکی حکومت کا کیا کارنامہ تھا اور پھر پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت دونوں نے کیوں عالمی سطح پر سبکی قبول کی ؟ یہ وہ سوالات ہیں ، جس کے جواب اگر مل جائیں تو بہت ساری باتیں ازخود واضح ہوجائیں گی ۔

 اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔