OBL deathاسامہ بن لادن کی موت حصہ سوم و آخر

مسعود انور

www.masoodanwar.com

hellomasood@gmail.com

 ایبٹ آباد میں کیا واقعہ پیش آیا ۔ یہ بات شاید تیس یا چالیس برس کے بعد دنیا اس وقت جان سکے جب سی آئی اے اس بارے میں اپنی دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کرے گی ۔ تاہم یہ واقعہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ امریکا کے دعوے کے مطابق اس میں اسامہ بن لادن کو ماردیا گیا اور اس کی لاش کو امریکی اپنے ساتھ پاکستان سے باہر بھی لے گئے بلکہ اس واقعے نے پاکستانی دفاعی نظام اور پاکستانی فوج کی اہلیت کے بارے میں بھی سوالات اٹھادیے تھے ۔ یعنی امریکی دعوے کے مطابق چار ہیلی کاپٹروں میں موجود درجنوں امریکی فوجی اہلکار سرحد پار کرکے پاکستانی دارالحکومت کے بالکل برابر والے شہر میں پاکستانی فوج کی چھاونی سے متصل کمپاونڈ میں اترے ، کامیاب کارروائی کی ، اسامہ کے ساتھ ساتھ اپنے مردہ فوجیوں کو بھی ہیلی کاپٹر میں لادا اور واپس پاکستان سے باہر بھی چلے گئے ۔ پاکستانی فوج اور کسی بھی ادارے کو اس کی کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی ۔ اس کی اطلاع پاکستان کو اس وقت ملی جب خود امریکی حکام نے اس سے پاکستان کو آگاہ کیا ۔ ایبٹ آباد کے رہائشی محمد بشیر کی واحد اور دستیاب عینی شہادت کے مطابق ایسا بالکل نہیں تھا ۔ اس پورے واقعے میں پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت پوری طرح سے شامل تھی ۔

پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کے اس پورے سانحے میں ملوث ہونے کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ 2 مئی کے بعد کسی بھی آزاد ادارے نے نہ تو وقوعے کی کوئی فارنسک رپورٹ بنائی اور نہ ہی یہ کسی بھی سطح پر پیش کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایبٹ آباد میں موجود اسامہ بن لادن کا کمپاونڈ صحافیوں کے لیے کھول دیا جاتا تاکہ وہ وہاں پر موجود گولیوں کے نشانات اور دیگر نشانات کی مدد سے یہ جان سکتے کہ کیا واقعی ایسا کچھ ہوا تھا جس کا دعویٰ امریکی کررہے تھے ۔ اس کے بجائے اس کمپاونڈ کو مکمل طور پر مسمار کردیا گیا تاکہ کبھی بھی اس بارے میں کوئی شواہد منظر عام پر ہی نہ آسکیں ۔ اسی طرح اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کو جن کے بارے میں یہ شواہد موجود ہیں کہ انہیں سی آئی اے اور پاکستانی ایجنسیوں کے تعاون سے وہاں پر رکھا گیا تھا ، کو کبھی بھی میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ۔ سب سے بڑی عینی شہادت یہی لوگ تھے جو بتاسکتے تھے کہ اس رات کیا واقعہ اور کس طرح پیش آیا ، مگر انہیں بھی خاموشی سے بیرون ملک روانہ کردیا گیا اور دنیا نے آج تک ان افراد کا ایک بھی مستند انٹرویو نہ تو دیکھا اور نہ ہی پڑھا ۔

عوام کو احمق بنانے کے لیے ہر دفعہ کی طرح ایک عدالتی کمیشن بنادیا گیا ۔ یہ واضح رہے کہ جوڈیشیل کمیشن کہیں سے بھی کسی بھی تحقیقاتی ادارے کا نعم البدل نہیں ہوتا ۔ یہ کمیشن نہ تو کہیں پر جاکر از خود تحقیقات کرتا ہے اور نہ ہی کسی کے دیے گئے بیان کو جانچتا ہے کہ اس میں کتنا غلط ہے اور کتنا درست ۔ یہ ایک جگہ بیٹھ کر چند افراد کو طلب کرتا ہے اور ان کے دیے گئے بیانا ت کی روشنی میں اپنی رپورٹ مرتب کرلیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بھی عدالتی کمیشن سے یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ جس سانحے کے لیے وہ کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور کیا وہ واقعہ یا سانحہ اسی طرح سے پیش آیا تھا جس طرح سے پیش کیا گیا ہے ۔ یہی صورتحال ہمیں ایبٹ آباد کے لیے بنائے گئے کمیشن میں بھی نظر آئی ۔ اس میں کوشش کی گئی کہ اس کے ذمہ دار افراد کو کسی بھی طرح قوم کے سامنے نہ پیش کیا جائے ۔

اس پورے واقعے کا ایک اہم ترین کردار ، امریکا میں اس وقت متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی بھی تھے ۔ حسین حقانی کے حوالے سے میمو گیٹ اسکینڈل مشہور ہوا ۔ وہ پاکستان آئے بھی اور واشنگٹن جاکر مفرور بھی ہوگئے ۔ پاکستانی عدلیہ انہیں شروع میں گیدڑ بھپکی دیتی رہی اور پھر دیگر معاملات کی طرح اس میں بھی مشتبہ چپ سادھ لی ۔ اس کے بعد نہ تو میڈیا میں سے کسی نے اس کا تذکرہ کیا ، نہ ہی حکومت نے کوئی آواز نکالی ، نہ ہی کسی پاکستانی ایجنسی نے اس معاملے کو کسی بھی فورم پر اٹھایا اور حیرت انگیز طور پر نہ ہی کسی اپوزیشن لیڈر نے اس معاملے پر منہ سے بھاپ نکالنے کی کوشش کی ۔ یہاں پر نورا کشتی کا اندازہ ہوتا ہے کہ جب ضرورت پڑتی ہے چاہے وہ ملکی سالمیت کے ہی خلاف معاملہ کیوں نہ ہو، کس طرح سب مل کر کھیل کھیلتے ہیں ۔

ان واقعات کا ایک مرتبہ پھر مختصرا جائزہ لیتے ہیں جس سے سارے کرداروں کا اسکرپٹ واضح ہوجاتا ہے۔ اس پورے واقعے کو میڈیا نے ایک ہی طرح سے رپورٹ کیا ۔ حالانکہ وقوعہ اسلام آباد سے محض دو گھنٹے کی مسافت پر تھا مگر پھر بھی ساری رپورٹیں بذریعہ واشنگٹن یا لندن چھپ رہی تھیں ۔ کسی بھی پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا نے ایک مرتبہ بھی عینی شہادت سے عوام کو یہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ اصل میں واقعہ ہوا کیا تھا ۔ پورا پاکستانی میڈیا اس قوالی میں ہمنوا تھا ۔ سارے دفاعی و سیاسی تجزیہ کار لکھا ہوا اسکرپٹ پڑھ رہے تھے ۔ ااس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میڈیا کی ڈوریں کہاں سے ہلائی جاتی ہیں اور پاکستانی میڈیا کتنا معتبر ہے ۔

پاکستانی قیادت نے بھی سارے الزامات اپنے سر پر لے لیے اور اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ نہ تو پاکستانی ایجنسیوں کو اس کی خبر تھی کہ مذکورہ کمپاونڈ میں کوئی رہائش پذیر تھا اور نہ ہی کسی بھی سول یا فوجی ادارے کو امریکی فوجی آپریشن کا علم ہوسکا۔دیگر مشتبہ معاملات کی طرح یہاں پر بھی فوری طور پر مذکورہ کمپاونڈ کو مسمار کرکے تمام تر شہادتوں کو ختم کردیا گیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت کس طرح اپنی قوم کو کسی بھی لمحے میں فروخت کرسکتی ہے ۔

پاکستانی فوجی قیادت نے بھی ان تمام الزامات پر صاد کیا ۔ پوری دنیا میں شرمندگی اٹھائی اور اس سوالیہ نشان کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا کہ اس نااہلی کے ساتھ یہ پاکستان کا دفاع کس طور پر کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت وقت پڑنے پر کس طرح دشمن کے سامنے بغیر مزاحمت کے گھٹنے ٹیک سکتی ہے ۔

اگر میمو گیٹ اسکینڈل کی سماعت مناسب طور پر ہوجاتی تو پھر بھی کچھ صورتحال سامنے آسکتی تھی مگر اعلیٰ ترین عدلیہ نے اس واقعے کو جس طرح سرد خانے کی نذر کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی عدلیہ کس طرح دیے گئے اسکرپٹ پر عمل کرتی ہے ۔

ایبٹ آباد کا واقعہ سقوط ڈھاکا کے بعد پاکستان کے لیے سب سے بڑا شرمناک واقعہ ہے ۔ اس واقعہ پر میڈیا ہاوسز ، سیاستداں ، دانشور ، صحافی ، فوجی قیادت اور عدلیہ نے جو کردار ادا کیا وہ اس سے بھی زیادہ شرمناک ہے ۔ صرف اس ایک واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی سازش کار کس حد تک کھیل پر قابو رکھتے ہیں اور ان کی کٹھ پتلیاں کس طرح ایک اشارے پر ناچتی ہیں ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔