OBL compoundواقعہ ایبٹ آباد کی حقیقت

www.masoodanwar.com

hellomasood@gmail.com

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسامہ بن لادن کو پاکستان میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نزدیکی شہر ایبٹ آباد میں دو مئی 2011 کی شب امریکی جانبازوں نے ایک آپریشن کرکے ختم کردیا تھا۔ کیا واقعی ایسا تھا ؟ یہ ایک ایسا بڑا سوالیہ نشان ہے ، جس کا جواب آج تک نہیں مل سکا ۔ اسامہ کی پہلی برسی کے موقع پر میں نے اس موضوع پر چند کالم لکھے تھے جو آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں جتنے لکھے جانے کے وقت تھے ۔ قارئین کی معلومات تازہ کرنے کے لیے ایک بار پھر سے یہ پیش خدمت ہیں ۔

اسامہ بن لادن کی پہلی برسی سے پانچ روز قبل بالاخر ان کے اہل خانہ افغانستان و پاکستان کے خوفناک چکر سے نکل کر اپنے ملک کو روانہ ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ اسامہ کی تین بیواوں اور گیارہ بچوں کو لے کر سعودی عرب سے آیا ہوا خصوصی طیارہ اسلام آباد سے جمعرات کی شب جدہ کے لیے پرواز کرگیا ۔

ایبٹ آباد آپریشن گذشتہ برس پاکستانی وقت کے مطابق یکم مئی اور دو مئی کی درمیانی رات کو کیا گیا ۔ تاہم امریکی وقت کے مطابق یہ یکم مئی کا دن تھا ۔ اس  آپریشن کے کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں واقع ایک کمپلیکس میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھے ۔ کہا گیا کہ اسامہ بن لادن کی یہاں پر رہائش کو جاننے کے لئے سی آئی اے نے اپنے ایک پاکستانی ایجنٹ شکیل آفریدی کے ذریعے جعلی پولیو مہم بھی چلوائی اور اب یہ ایجنٹ گرفتار ہے ۔

ایبٹ آباد آپریشن اور اسامہ کی موت کے حوالے سے جتنی بھی خبریں پاکستان سمیت پوری دنیا تک پہنچیں ان سب کا ایک ہی ماخذ تھا اور وہ تھا واشنگٹن ۔ اسلام آباد سے محض 130 کلومیٹر کے فاصلے یا پھر صرف دو گھنٹے کی ڈرائیونگ پر واقع ایبٹ آباد جاکر عینی شاہدوں سے ملنے اور حقیقت جاننے کی سوائے ایک اینکر پرسن کے، کسی کی ہمت نہیں تھی یا پھر اجازت نہیں تھی کہ وہ ان عینی شاہدوں کے بیان سنتا ، دکھاتا یا پھر لکھتا کہ اصل واقعہ کیا ہوا تھا ۔ یہ واقعہ ایک سال پورا ہونے کے باوجود اب تک کنفیوژن کی شدید دھند میں لپٹا ہوا ہے ۔ اب تک یہی پتہ نہیں چل سکا کہ اصل واقعہ ہوا کیا تھا ۔ واقعہ ایبٹ آباد پر بنایا گیا سرکاری کمیشن بھی اب تک نہ تو اپنی رپورٹ مکمل کرسکا ہے اور نہ اس بنیادی سوال کا تعین کرسکا ہے کہ اس کمپلیکس اسامہ موجود بھی تھا کہ نہیں ۔ ( واضح رہے کہ یہ آرٹیکل 2012 میں لکھا گیا تھا )

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ صرف ایک عینی شاہد ہمیں ٹی وی پر نظر آیا ۔ یہ عینی شاہد محمد بشیر بلال ٹاون میں اسامہ کے کمپاونڈ کے سامنے ہی رہائش پذیر ہے اور اس نے سارا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ یہ عینی شاہد محمد بشیر سماء  ٹی وی کے پروگرام نیوز بیٹ میں اینکر پرسن کو بتا رہا ہے کہ اس سارے آپریشن کے دوران وہ اپنی چھت پر رہا اور اس نے اس سارے واقعے کو تفصیلی طور پر دیکھا۔

محمد بشیر نے بتایا کہ آپریشن کی رات ایک ہیلی کاپٹر آیا اور اسامہ کے کمپاونڈ پر دس بارہ آدمی اتار کر واپس چلا گیا اور تقریبا 20 منٹ تک وہ قریبی پہاڑوں پر چکر کاٹتا رہا ۔ اس کے بعد وہ واپس آیا ۔ اس کے آنے کے ساتھ ہی دو ہیلی کاپٹر اور آئے ۔ ان میں سے ایک مغرب کی طرف سے آیا اور ایک شمال کی طرف سے ۔ جیسے ہی پہلا ہیلی کاپٹر نیچے اترا تو اس میں دھماکا ہوگیا اور اس میں آگ لگ گئی ۔ محمد بشیر کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے فوری بعد ہی ہم باہر نکلے اور اس کمپاونڈ میں پہنچ گئے ۔ وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ ہیلی کاپٹر میں آگ لگی ہوئی تھی ۔ اس کے بیس منٹ بعد پاک فوج اور علاقہ پولیس وہاں پہنچ گئی ۔ محمد بشیر کا کہنا ہے کہ جب وہ کمپاونڈ میں پہنچا تو اس کا مین گیٹ کھلا ہوا تھا اور صرف وہ ہی نہیں تھا جو وہاں پر پہنچا بلکہ اس کے ساتھ ہی پورے علاقے کے لوگ وہاں پہنچ چکے تھے جن کی تعداد تقریبا 200 تھی ۔

محمد بشیر نے سوال اٹھایا کہ امریکا کہتا ہے کہ یہ آپریشن ہم نے اکیلے کیا اور ہم اسامہ کو امریکہ لے گئے ، سمجھ نہیں آتا کیونکہ اس کا ایک ہیلی کاپٹر فضاء میں پھٹ گیا ۔ انہوں (بشیر) نے دوبارہ بتایا کہ صرف ایک ہی ہیلی کاپٹر نیچے اترا اور اس نے بندے اتارے ۔ پھر وہ چکر لگاتا رہا ۔ جب وہ اپنے بندے واپس لینے پہنچا تو پھٹ گیا ۔ دوسرا کوئی ہیلی کاپٹر نیچے اترا ہی نہیں ۔ ایک ہیلی کاپٹر واپس مانسہرہ کی طرف چلا گیا ( اس پر غور کریں، یہ ہیلی کاپٹر نہ تو افغانستان سے آیا اور نہ ہی افغانستان گیا جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے ) ۔  محمد بشیر نے ایک بات اور بتائی کہ جب تک فوج اور پولیس نہیں آئی تھی اس وقت بھی وہاں ایجنسیوں کے لوگ موجود تھے جنہوں نے محلے والوں کو نہ تو وقوعہ سے ہٹایا اور نہ ہی اندر آنے سے منع کیا ۔ محمد بشیر کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس لیے نہیں بتاسکتا کہ اس وقت اندھیرا تھا اور کمپاونڈ بھی خاصا وسیع ہے ۔ اس نے بتایا کہ وہ کمپاونڈ میں تقریبا پانچ چھ منٹ رہا کیوں کہ اس بعد ہیلی کاپٹر کے انجن میں یا پھر پٹرول ٹینک میں ایک چھوٹا سا دھماکا ہوا جس سے گھبرا کر سب لوگ کمپاونڈ سے باہر آگئے ۔ اس کے پندرہ بیس منٹ کے بعد پولیس اور فوج آگئی جس نے سب لوگوں کو پیچھے ہٹادیا اور بعد ازاں کمپاونڈ کو عام لوگوں کے لئے بند کردیا ۔

محمد بشیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہیلی کاپٹر سے جو پہلے لوگ اترے تھے انہوں نے پورے محلے کے لوگوں کے دروازے زور زور سے بجا کر سب کو پشتو میں دھمکایا تھا کہ وہ لوگ باہر نہ نکلیں اور اگر وہ لوگ باہر نکلے تو ان کو گولی ماردی جائے گی ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سب لوگ پختون تھے یا لگتے تھے ۔ کیوں کہ محمد بشیر ایک سیاسی کارکن ہے اور ایبٹ آباد کے نائب امیر جماعت اسلامی کا رشتہ دار بھی ہے اس لیے وہ عادت سے مجبور ہو کر چھت پر چھپ کر دیکھنے چلا گیا کہ ہو کیا رہا ہے ۔ محمد بشیر کا کہنا ہے کہ شروع میں تو وہ یہی سمجھا تھا کہ یہ لوگ پاکستانی ہیں کیوں کہ وہ پشتو بول رہے تھے اور اسی لئے وہ اور دیگر محلے والے دھماکے کے بعد کمپاونڈ کی طرف بھاگے تاکہ پاکستانی فوجیوں کی مدد کرسکیں ۔

محمد بشیر نے دوران انٹرویو بتا یا کہ اس کا ایک کزن بھی اس وقت اس کے گھر پر موجود تھا جو اس کے ساتھ دھماکے کے بعد کمپاونڈ میں گیا تھا ۔ مگر اس کو وہاں سے ایجنسی والے لے گئے ۔ بعد ازاں اس کو چھوڑ دیا گیا مگر وہ گھر پر نظر بند ہے ۔ نہ تو اس کو باہر آنے کی اجازت ہے اور نہ ہی کسی رشتہ دار کو اندر جانے کی ۔

محمد بشیر نے واضح طور پر بتایا کہ پھٹنے والے ہیلی کاپٹر کے علاوہ اور کوئی ہیلی کاپٹر اترا ہی نہیں ۔ جو دو اور ہیلی کاپٹر آئے اس میں سے ایک مغرب کی طرف سے آیا وہ شمال کی طرف چلا گیا اور دوسرا شمال کی طرف سے آیا وہ جنوب کی طرف چلا گیا ۔ یہاں پر محمد بشیر کا انٹرویو ختم ہوگیا ۔

محمد بشیر کے انٹرویو پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس انٹرویو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تمام مردہ اجسام کو پاکستانی فوج نے اٹھایا اور اگر یہ امریکی فوجی تھے تو انہیں امریکا کے حوالے بھی پاکستانی فوج نے بھی کیا اور اگر اسامہ کی بھی یہیں پر رہائش تھی ( یہ اگر بہت اہم ہے ) تو اسے بھی زندہ یا مردہ امریکیوں کے حوالے پاکستانی فوج نے ہی کیا ۔ اسامہ کے اہل خانہ کی جدہ روانگی تک بھی پاکستانی ایجنسیوں نے ان کے کسی بھی فرد کو آزاد میڈیا کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

جناب عالی ، محمد بشیر کے اس انٹرویو سے واضح ہے کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا ۔ پاکستانی حکام اور فوج اس میں کتنے ملوث ہیں ۔ کیا اسامہ واقعی اس کمپاونڈ میں موجود تھا ۔ اس پر اگلے کالم میں بات کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازش سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔