masood-2سی پیک ۔مالی قیمت
www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com 

سی پیک ایک ایسا موضوع ہے جس کے معاملات سے قوم ابھی تک بے خبر ہے ۔بس ایک ماحول بنادیا گیا ہے کہ سی پیک ہی پاکستان کے ہر مسئلے کا حل ہے اور اس وقت پوری دنیا میں پاکستان میں اس منصوبے کے شروع ہونے سے تھرتھری دوڑ گئی ہے۔ کیا امریکا اور کیا بھارت ، سب پریشان ہیں کہ پاکستان کو اس منصوبے سے کس طرح دور رکھا جاسکتا ہے ۔ بھارت میں عوام سے لے کر رہنما تک سب اپنے ملک کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں ۔بس اب چند برسوں ہی کی بات ہے کہ پاکستان ایک سپر پاور بن کر ابھرنے کو ہے ۔ سی پیک کے پروجیکٹ مکمل ہوجائیں تو پاکستان سے ہونے والی تجارت دوبئی اور سنگاپور کو پیچھے چھوڑ جائے گی اور ایشیا میں تجارت و صنعت کا نیوکلیئس تبدیل ہوکر رہ جائے گا۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی ہر واردات کا سرا سی پیک سے جوڑ دیا جاتا ہے کہ بیرونی طاقتیں سی پیک کو مکمل ہونے سے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں ۔ 
یہ تو سی پیک کے بارے میں بنایا گیا ایک عمومی ماحول ہے ۔ اس منصوبے کی جزئیات کیا ہیں ۔ اس بارے میں وہ بھی بے خبر ہیں جنہیں باخبر ہونا چاہیے ۔ اصل منصوبہ کتنی مالیت کا ہے اور اس میں کون کون سے پروجیکٹ شامل ہیں۔ ان پروجیکٹوں کو کون کون سے چینی ادارے قرض فراہم کررہے ہیں اور کون کون سے پاکستانی ادارے ان کے پارٹنر ہیں ۔ اس میں پاکستانی حکومت کا کیا کردار ہے اور چینی حکومت کی کیا خواہشات ہیں ۔ مشرف دور میں پیش کیا جانے والا اصل منصوبہ کیا تھا اور اب تک اس میں کیا کیا تبدیلیاں کی جاچکی ہیں ۔ اگر پاکستانی پارٹنر نادہندہ ہوگئے تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ اس بارے میں سیاہ و سفید میں کہیں پر کچھ بھی موجود نہیں ہے۔ سرکاری افسران سے اس بارے میں دریافت کریں تو وہ ہونقوں کی طرح شکل دیکھنے لگتے ہیں ۔ صنعت و تجارت کے نمائندگان سے کچھ معلومات حاصل کرنا چاہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں آپ کو کچھ پتہ ہو تو ہمیں بھی بتلائیے گا ۔ اس بارے میں جو کچھ معلومات دستیاب ہیں ، انہیں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی قوم کے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا ہے ۔
سب سے پہلے ایک غلط فہمی کی وضاحت ۔ یہ بات سرکار بھی کہتی ہے اور ذرائع ابلاغ پر بھی یہی غوغا ہے کہ سی پیک منصوبہ چینی حکومت کی مالی معاونت سے مکمل کیا جارہا ہے ۔ یہ غلط فہمی ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے جنگی جہاز خریدے۔ امریکا میں جنگی ساز و سامان بنانے والے ادارے و فیکٹریاں امریکی حکومت کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جو امریکا میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں ۔ پاکستان یا کوئی اور ملک ان ہی کمپنیوں سے جنگی ساز و سامان خریدتا ہے تو اس کا مطلب کہیں سے بھی یہ نہیں ہوتا ہے کہ امریکی حکومت سے خریداری کی گئی ہے ۔ خود پینٹاگون بھی ان ہی کمپنیوں سے خریداری کرتا ہے اور ان ہی شرائط پر خریداری کی جاتی ہے جن شرائط پر دیگر ممالک خریداری کرتے ہیں ۔ یعنی پہلے بینکوں سے قرض لیا جاتا ہے۔ اس قرض سے ان کمپنیوں کو ادائیگی کرکے اسلحہ یا دیگر ساز و سامان حاصل کیا جاتا ہے اور پھر قوم برسوں یہ قرض ادا کرتی رہتی ہے ۔ 
اب دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں کس قیمت پر سی پیک منصوبے کے تحت شروع کیے گئے منصوبے مکمل کیے جارہے ہیں ۔کسی بھی منصوبے کی تکمیل میں اس کا مالی جز انتہائی اہم ہے ۔ یعنی کتنا قرض لیاگیا ہے اور کس سے لیا گیا ہے ۔ منصوبے میں مالک کتنی فیصد رقم کی شراکت داری کرے گا اور سب سے اہم بات کہ شرح سود کتنی ہے ۔ 
اس کسوٹی پر سی پیک کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کی مالی لاگت کو جانچتے ہیں ۔ چند اہم منصوبوں کو دیکھتے ہیں، اس سے پورے منصوبے کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ یہ تمام قرضے چینی حکومت نے نہیں فراہم کیے ۔ چینی حکومت تو خود کھربوں ڈالر کی مقروض ہے ۔ یہ قرضے فراہم کیے ہیں چینی بینکوں نے ۔ پوری دنیا میں بینکوں کا عالمی سطح پر قرض دینے کا ایک پیمانہ مروج ہے اور وہ ہے لندن میں بینکوں کا ایک دوسرے کو قرض فراہم کرنے پر 4لیے جانے والے سود کی شرح ۔ اسے انگریزی مخفف میں LIBOR کہا جاتا ہے ۔ اس وقت چھ ماہ کے لیے فراہم کیے جانے والے قرضے پر LIBOR کی شرح 1.34 فیصد ہے اور ایک سال کے لیے فراہم کیے جانے والے قرض پر یہ شرح 1.71 فیصد ہے ۔ پاکستان کو چینی بینکوں نے LIBOR کے علاوہ 4.5 فیصد شرح سود پر یہ قرض فراہم کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔ اس طرح ان منصوبوں پر شرح سود 6 فیصد سے زائد بنتی ہے ۔ یہ شرح سود بھی زیادہ ہے ۔ عام طور پر دنیا میں شرح سود 3 تا 4 فیصد ہوتی ہے ۔ اس طرح چینی بینک پاکستان سے دگنی شرح سود وصول کررہے ہیں۔ اگر بات یہیں تک محدود ہوتی تو تب بھی قابل برداشت تھی ۔ پاکستان جتنا سود ادا کرے گا ، اس سے زیادہ ان منصوبوں پر کی جانے والی انشورنس رسک کی مد میں ادا کرے گا۔ پہلے پاکستان کے بارے میں ایک ماحول بنایا گیا کہ یہ منصوبے ہر لحاظ سے خطرے میں ہیں۔ پاکستانی حکومت کی مالی حالت بہتر نہیں ہے اور وہ کسی بھی وقت نادہندہ ہوسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے بھی ان منصوبوں کو خطرات لاحق ہیں ۔ جتنے زیادہ خطرات ہوں ، اتنا ہی انشورنس کا پریمیم بڑھتا جاتا ہے ۔ ان منصوبوں پر پریمیم کی شرح 7 فیصد ہے ۔ اس طرح پاکستان ان منصوبوں پر مجموعی طور پر سود اور انشورنس کی مد میں تقریبا 13.5 فیصد سالانہ کی ادائیگی کرے گا۔جس چینی انشورنس کمپنی سے ان منصوبوں کی انشورنس کروائی گئی ہے اس کا نام ہے China Export and Credit Insurance Corporation (Sinosure)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 100 ارب ڈالر کے منصوبوں پر 13.5 ارب ڈالر سالانہ صرف شرح سود اور انشورنس کی مد میں ادا کیا جائے گا۔ دس برسوں میں یہ رقم بنتی ہے 135 ارب ڈالر ۔ جو کہ اصل سے بھی 35 فیصد زائد ہے ۔ 
اس سب کے بدلے پاکستان کو کیا ملے گا ۔ یہ ہر منصوبے کے لحاظ سے مختلف ہے ۔ مثلا کوئلے سے چلنے والے پاور پروجیکٹ پر پاکستان کو منافع میں سے 34.5 فیصد حصہ ملے گا جبکہ بقیہ 65.5 فیصد چینی کمپنی لے جائے گی۔ پانی سے بجلی پیدا کرنے والے پروجیکٹ پر پاکستان کو صرف 17 فیصد ملے گا بقیہ 83 فیصد چینی کمپنی لے جائے گی۔
ذرا حالت کی سنگینی دیکھیں اور سمجھیں کہ سود ، انشورنس سب پاکستان کے ذمہ۔ ناہندہ ہوگا تو پاکستان اور منافع کون لے جارہا ہے ؟ چینی کمپنیاں۔ اس منافع پر چینی کمپنیوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے ۔ یعنی وہ اس خالص منافع پر وہ ٹیکس بھی ادا نہیں کریں گے جو دیگر کمپنیاں پاکستان میں ادا کرتی یں ۔ اب پھر سے ہمبنٹوٹا اور تاجکستان کاماڈل دیکھیں اور یہ شرائط دیکھیں۔ 
سی پیک پر مزید گفتگو آئندہ کالم میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس دنیا پر ایک شیطانی عالمگیر حکومت سے کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔