masood-1سی پیک ۔ جال تو نہیں
مسعود انور
www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com

ملکوں اور قوموں کو غلام بنانے کا نسخہ انتہائی سادہ ہے اور وہ آزمودہ نسخہ ہے ہدف کو قرضوں تلے دبادینا۔ جو ممالک یا اقوام آرا م سے قرض لینے پر تیار نہ ہوں ۔ انہیں کسی نہ کسی طرح جنگ میں مصروف کردیا جاتا ہے یا پھر ان ملکوں میں بغاوت پیدا کردی جاتی ہے ۔ اب سارے وسائل بغاوت کے خاتمے میں یا جنگ میں دفاع کے نام پر جھونک دیے جاتے ہیں ۔ساہوکاروں کی جانب سے بھاری سود پر قرض دینے کی تاریخ یا نسخہ کوئی نیا نہیں ہے۔ قدیم عرب میں بھی یہودی ساہوکار یہی کام کرتے نظر آتے ہیں ۔ پہلے وہ عرب قبائل کی حمیت ، بہادری اور احساس برتری کو ابھارتے تھے ۔ اس کے لیے وہ شعراء اور مغنیوں کی خدمت میں بھاری نذرانے بھی پیش کرتے تھے۔ جب یہ قبائل جنگ میں مصروف ہوجاتے تو پھر ان کے خزانوں کے منہ کھل جاتے۔ جنگ تو کچھ عرصے میں ختم ہوجاتی مگر قرض کی ادائیگی کبھی ختم نہ ہوتی اور یہ قبائل ہمیشہ کے لیے ان یہودیوں کی غلامی میں آجاتے ۔
یہی کچھ جدید دور میں ہورہا ہے ۔ ذرا آس پاس تو دیکھیں۔ پوری عرب دنیا کو کس طرح سے جنگ میں الجھایا گیا اور اب کس طرح سے اس خوشحال خطے کو بدترین معاشی گرداب میں پھنسادیا گیا ہے۔ سعودی عرب اس سلسلے میں بہترین کیس اسٹڈی ہے ۔ جن ممالک کو جنگ میں نہ پھنسایا گیا ہو انہیں ترقی کے نام پر اس جال میں پھنسالیا جاتا ہے ۔ خوش کن اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں جو نظروں کو خیرہ کردیتے ہیں اور ذہن جاگتے میں بھی خوبصورت خواب دیکھنے لگتا ہے ۔ مگر جب جاگتے ہیں تو اس کی بدترین تعبیر سامنے ہوتی ہے جو نسلوں کو بھی گروی رکھ دیتی ہے ۔
پاکستان بھی ایسی ہی دو دھاری تلوار کا شکار ہے ۔ ملک کے اندر دہشت گردی، امن و امان کی بدترین صورتحال، سرحدوں پر روز تناؤ جس کے لیے دفاع کے نام پر بھاری بھرکم اخراجات۔ اس کے بعد ملک میں ترقی کے نام پر اندھادھند اخراجات اور اس کے لیے بلا سوچے سمجھے بھاری بھرکم قرضے۔ قرض کے بارے میں ایک بات دوبارہ سے واضح کردوں کہ ساہوکار یہ قرض کم سے کم شرح سود پر تو دے سکتے ہیں مگر قرض کی مالیت سے کئی گنا زائد کی ملکیت کو گروی رکھے بغیر قرض کے لیے ایک دھیلا بھی نہیں دیتے ۔
اب ایک کہانی کو دیکھتے ہیں ۔ یہ کہانی یوں تو سری لنکا کی ایک بندرگاہ ہمبنٹوٹا کی ہے مگر نام کو ہٹا کر حالات و واقعات کو دیکھیں تو پاکستانی بندرگاہ گوادر ہی کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ یہ 2002 کی بات ہے کہ کہا گیا کہ سری لنکا کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ایک نئی بندرگاہ کی تعمیر کی جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ سری لنکا کی کولمبو میں واقع بندرگاہ پرگنجائش سے زیادہ جہاز لنگر انداز ہونے لگے ہیں یا جلد ہی مستقبل میں سری لنکا میں تجارت اتنی بڑھ جائے گی کہ کولمبو کی بندرگاہ میں جہازوں کے لنگرانداز ہونے کی گنجائش ختم ہوجائے گی ۔ ایسا کچھ نہیں تھا مگر کہا گیا کہ سری لنکا کے جنوب میں واقع ہمبنٹوٹا جہازوں کی عالمی گزرگاہ کے عین قریب واقع ہے اور یہاں پر ایک بندرگاہ قائم کرکے بڑے مالی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مثلا یہاں پر جہازسازی کا کارخانہ لگایا جائے جہاں پر گزرتے جہازوں کو مرمت کی سہولت بھی فراہم کی جائے ۔ اس مقام سے گزرنے والے جہازوں کو درمیان میں ٹھیرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی اور کریو کی تبدیلی کی بھی سہولت بھی ۔ دوسرے مرحلے میں یہاں پر تیل کی ایک ریفائنری بھی لگانے کا منصوبہ شامل تھا۔ اس کی امکانیت کے لیے بنائی گئی رپورٹ انتہائی خوش کن تھی مگر ماہرین نے اسے 2002 میں مسترد کردیا۔ تاہم اس پر عملدرامد کے لیے ملکی و غیر ملکی دباؤ جاری رہا او رجنوری 2008 میں اس کی تعمیر شروع ہوگئی ۔ اس کی لاگت کا تخمینہ 360 ملین ڈالر لگایا گیا تھا ۔ اس کا 85 فیصد چینی بینکوں سے قرض لیا گیا جبکہ 15 فیصد سری لنکا پورٹس اتھارٹی نے ملکی بینکوں سے قرض لے کر شامل کیا۔ اس کی تعمیر دو چینی کمپنیوں China Harbour Engineering Company اور Sinohydro Corporation نے کی ۔ 18 نومبر 2010 کو اس بندرگاہ کا باقاعدہ افتتاح علامتی طورپر سری لنکا کی بحریہ کے ایک جہاز کو لنگر انداز کرکے کیا گیا ۔ جلد ہی پتہ چل گیا کہ اس کے بارے میں چینی کمپنیوں کے بتائے گئے تمام اندازے غلط تھے اور اس بندرگاہ میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔ جلد ہی سری لنکا پورٹس اتھارٹی چینی بینکوں کی نادہندہ ہوگئی۔ یہاں سے اصل چہرہ سامنے آتا ہے ۔
تقریبا دو ہفتے قبل 29 جولائی 2017 کو سری لنکا کی حکومت نے ایک معاہدے کے تحت ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ 99 سالہ لیز پر China Merchant Port Holdings کے حوالے کردی۔ سری لنکا کی حکومت نے یہ بندرگاہ 1.4 ارب ڈالر کے عوض فروخت کی ۔ تاہم اس میں سے سری لنکا کی حکومت کو ایک دھیلا بھی نہیں ملے گا بلکہ اس سے قرض بے باق ہوگا۔ اب دوبارہ سے سارے معاملے کو دیکھیں ۔ قرض 36 کروڑ ڈالر کا لیا گیا تھا جو بڑھ کر 140 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا اور چینی بینکوں نے نادہندگی پر بندرگاہ قرق کرلی۔ اس سے قبل چین یہی کھیل تاجکستان کے ساتھ کرچکا ہے ۔ اس کھیل میں تاجکستان کو افغانستان سے متصل ایک ہزار مربع کلومیٹر چین کو قرض کے عوض حوالے کرنا پڑا ۔ اب چین کی افغانستان کے ساتھ 300 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے ۔
اب صورتحال کو پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ اور سی پیک منصوبے پر منطبق کرکے دیکھیے ۔ سری لنکا نے تو 36 کروڑ ڈالر کا قرض لیا تھا ۔ یہاں تو پاکستان 100 ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہوگیا ہے ۔ سود سمیت یہ رقم بڑھ کر 500 ارب ڈالر سے زائد پر پہنچے گی ۔ تو پھر پاکستان کیسے یہ قیمت ادا کرے گا اور چین اس کے بدلے کیا کچھ حاصل کرے گا؟ اس پر سوچنے کے لیے ذہن پر بہت زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پورے کھیل کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان جو بھی رقم قرض لے رہا ہے وہ سب کی سب گھوم پھر کر دوبارہ سے چین پہنچ جاتا ہے کیوں کہ اس کی تعمیر کے لیے چینی کمپنیاں ہی کام کررہی ہیں اور وہ مزدوروں سے لے کر خام مال تک چین سے لارہی ہیں ۔ پاکستان تو صرف انہیں سیکوریٹی دیتا ہے ۔
ایک مرتبہ پھر سے جان لیجیے کہ فلسطین پر اسرائیل نے ابتدا میں قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ مارکیٹ سے مہنگے داموں عربوں کی املاک خریدی تھیں۔ یہاں تو معاملہ ہی دوسرا ہے ۔ پہلے قرض دیا پھر اس قرض سے چینی کمپنیوں سے خریداریاں کی گئیں ، چینی مزدوروں اور کارکنوں کو مزے سے بھاری مشاہرے پر روزگار ملا اور بعد میں غیر ملکی املاک بھی قبضے میں ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔