education2غلامی کی جانب سفر حصہ دوئم 
مسعود انور
www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com 

تعلیم کے شعبے میں تباہی کی بات یہاں تک تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے لیے کبھی مناسب فنڈز مختص ہی نہیں کیے گئے ۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بڑے بڑے میدانوں والی وسیع و عریض عمارت والے اسکول کیوں خالی پڑے ہیں جبکہ چند سو گز کے رقبے پر قائم عمارتوں میں جن کے پاس اپنے کھیل کے میدان تو دور کی بات ، اسمبلی کرنے کی جگہ موجود نہیں ہیں، انتہائی مختصر کمروں میں کلاس روم قائم کیے گئے ہیں ، میں قائم اسکول کیسے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہے ہیں جبکہ ان کی فیسیں پانچ عدد سے بھی تجاوز کرچکی ہیں ۔ ان نجی اسکولوں کے اساتذہ کا پے اسکیل اتنا زبردست ہے کہ بہترین ٹیلینٹ یہیں پر نوکری کرنے کو ترجیح دیتا ہے ۔ پھر ؟
سرکاری شعبے میں تعلیمی اداروں کی تنزلی کا آغاز اسکولوں سے ہی ہوا۔ بہترین عمارت اور قابل اساتذہ کے ہوتے ہوئے بھی اسکول خالی ہوتے چلے گئے ، اس کے بعد کالجوں کی باری آئی ۔ اب کالج غیر آباد اور کوچنگ سینٹرز آباد ہیں۔ تباہی کا یہ عفریت آہستہ آہستہ سرکاری جامعات کو بھی نگل رہا ہے ۔ پہلے جامعہ پنجاب اور جامعہ کراچی جیسے تعلیمی اداروں میں پڑھنا باعث افتخار سمجھا جاتا تھا ۔ اب ننھے سے بنگلوں میں جامعات کو چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور پراسرار طریقے سے اسکولوں کی طرح سرکاری جامعات بھی اچھے اور ٹیلینٹ رکھنے والے طالب علموں سے محروم ہوتی جارہی ہیں ۔ 
آخر ایسا کیوں ہوا کہ عوام جو کام 20 روپے میں پاکستان پوسٹ آفس کے ذریعے کرسکتے ہیں ،ا سی کام کے 200 روپے نجی شعبے میں قائم کوریئر کمپنیوں کو بخوشی دے رہے ہیں ۔ اس کام کے لیے پہلے زمین ہموار کرنا پڑتی ہے ۔ سب سے پہلے پوسٹ آفس میں ایسے نااہل افراد کو کلیدی اسامیوں پر تعینات کیا گیا جو اس ادارے کی کارکردگی کو تباہ کرکے رکھ دیں۔ اس کے بعد اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ پر منفی خبروں کی بھرمار کردی جاتی ہے۔ جب عوام کا ذہن ایک مرتبہ بن جاتا ہے تو پھر دس گنا قیمت وصول کرنا مسئلہ نہیں رہتا ۔ ایسا ہی اسکولوں کے ساتھ کیا گیا ۔ سب سے پہلے نااہل ترین افراد کو کلیدی مناصب سے نواز دیاگیا ۔ اس کے بعد کا عمل منطقی تھا۔ ان اسکولوں کو فنڈز کا اجراء مکمل طور پر روک دیا گیا ۔ جب اسکولوں کی آمدنی طالب علموں سے نہیں ہوگی کہ تعلیم مفت ہے تو ان اداروں کا انحصار لامحالہ سرکاری فنڈز پر ہوگا۔ فنڈز رکنے سے اسکولوں کی حالت تباہ ہونے لگی۔ وہاں پر بنیادی ضروریات کا فقدان ہوگیا۔ باتھ روم کی سہولت ندارد ہوگئی، پینے کا پانی نہ رہا، بلیک بورڈ ٹوٹ پھوٹ گئے اور بیٹھنے کے لیے فرنیچر مرمت نہ ہونے کے سبب ختم ہوگیا۔ عمارتوں کا رنگ روغن نہ ہونے کی بناء پر پلاستر جھڑنے لگا۔ بلوں کی عدم ادائیگی پر اسکولوں کی بجلی گیس کے کنکشن منقطع کردیے گئے ۔ اب شدید گرمی میں بچے اور اساتذہ بے حال ہوگئے اور گیس نہ ہونے کی بناء پر سائنس کے پریکٹیکل رک گئے ۔ ایسے میں نجی شعبے میں اسکول قائم ہونے لگے۔ کلیدی مناصب پر نااہل افراد کے فائز ہونے کی بناء پر اساتذہ اور دیگر ملازمین اسکولوں سے غائب رہنے لگے مگر ان کی حاضری اسکولوں کے رجسٹر پر پوری تھی اور اعلیٰ افسران کو کمیشن دینے کے بعد انہیں گھر بیٹھے پوری تنخواہ بھی مل رہی تھی ۔ انہیں عرف عام میں گھوسٹ ملازمین کہا جاتا ہے ۔ یہ سرکاری اسکولوں سے طالب علموں کو نکالنے کی دھکیلو اور کھینچو جیسی پالیسی تھی۔ سب سے پہلے خوشحال طبقے نے اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں سے باہر نکالا ۔ کیوں کہ وہ دیکھ چکے تھے کہ بڑی عمارتوں کے باوجود اسکول میں بنیادی فرنیچر تک نہیں ہے ، مجبورا بچوں کو دریوں پر بیٹھنا پڑ رہا ہے ۔ گھوسٹ اساتذہ کی بناء پر بچے آوارہ گردی کررہے ہیں ۔ اب خوشحال طبقے کے بچے نجی اسکولوں میں جانے لگے۔ آہستہ آہستہ نجی اسکولوں کو اسٹیٹس سمبل دے دیا گیا۔ اب بچوں کومعاشرے میں احساس ندامت سے بچانے کے لیے دیگر طبقوں نے بھی خوشحال طبقے کی تقلید شروع کردی ۔ سرکار میں بیٹھے ہوئے صاحبان کے کزن وغیرہ ان سرکاری عمارتوں پر قبضے کرنے لگے ۔ عدالتوں میں کیس جانے لگے اور سرکار کی جانب سے جان بوجھ کر کیس کی مناسب پیروی نہ کرنے کی بناء پر اسکولوں کی قیمتی عمارتیں دیکھتے ہی دیکھتے لینڈ مافیا کے چنگل میں آگئی ۔ 
لیجیے صاحب دیکھتے ہی دیکھتے نئے اسکول کیا قائم ہوتے ، پرانے قائم شدہ اسکول ہی غائب ہوتے چلے گئے ۔ دیہی علاقوں کا حال تو اور بھی سرکار نے بُرا رکھا ۔ اسکول مویشیوں کے باڑے اور اوطاق میں تبدیل کردیے گئے ۔ اساتذہ کی تنخواہیں علاقے کے وڈیرے اور سردار کو ملنے لگیں۔ اس میں سے کچھ رقم وہ اپنے ذاتی ملازمین کو ادا کرتے ہیں جبکہ بقیہ کو وہ شیر مادر سمجھ کر ہضم کر جاتے ہیں ۔ 
اس کے بعد کالجوں کی باری آئی ۔ وہی پرانا حربہ کہ کلیدی مناصب پر نااہل افراد کی تعیناتی۔ یہ وہ آزمودہ نسخہ ہے کہ اس کے بعد کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔ سیکریٹری ایجوکیشن سے لے کر ڈائریکٹر کالجز و اسکولز تک نااہل فرد کو بٹھادیں ۔ اس کے بعد سارا کام خود کار طریقے سے ہوجاتا ہے ۔ اگر کوئی پرنسپل ذاتی دلچسپی لے کر کسی ادارے کو بنانے کی کوشش کرے تو اسے سرکار وہ دھوبی پٹخا دیتی ہے کہ وہ اپنی سات نسلوں کو بھی وصیت کرجاتا ہے لہروں کے مخالف سمت تیرنے کی کوشش نہ کرنا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی کی بات ہے کہ پیر مظہرالحق سندھ کے وزیر تعلیم تھے ۔ ان کی اہلیہ کو کالج میں لیکچرر بھرتی کرلیا گیا تھا ۔ لیاری کے ایک کالج میں تعیناتی تھی مگر محترمہ کالج آنا پسند نہیں کرتی تھیں۔ جب کالج کی پرنسپل نے پیر مظہرالحق کی اہلیہ کو کالج میں آکر تدریس کرنے پر مجبور کیا تو سرکار کے ذریعے اُس پرنسپل کا وہ حشر کیا گیا کہ اسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل ہونا پڑ گیا اور اُس پرنسپل نے الیکٹرونک میڈیا پر اپنے کان پکڑ کر معافی مانگی کہ اب وہ آئندہ ایسی گستاخی کبھی نہیں کرے گی ۔ کلیدی منصب پر نااہل فرد کی تعیناتی کی یہ ایک سادہ سی مثال ہے ۔ قوم کو غلام بنانے کی کہانی ابھی جاری ہے ۔ 
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش