uniجامعات کے طلبہ کی معلومات
مسعود انور
www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com

سینیٹ کے چیئرمین نے طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو دینے سے جامعات کو منع کردیا ہے ۔ یہ قضیہ عید قرباں سے دوبارہ اس وقت شروع ہوا جب سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ۔ گو خواجہ اظہار اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے اور انہیں خراش تک نہ آئی ، تاہم اس حملے میں خواجہ اظہار کی سیکوریٹی پر مامور ایک پولیس اہلکار اور نماز عید کے لیے آیا ہوا ایک بچہ ضرور جان کی بازی ہار گئے ۔ حملے کے فوری بعد ہی خبر آگئی کہ ایک حملہ آور مارا گیا ہے جبکہ دیگر فرار ہوگئے ہیں اور ان کا تعلق مذہبی شدت پسندوں کے ایک نئے گروہ انصار الشریعہ سے ہے ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی پولیس نے بتایا کہ مارا جانے والا حسان انجینئر اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے جبکہ فرار ہونے والا ماسٹر مائنڈ جامعہ کراچی کے اپلائیڈ فزکس کا طالب علم ہے ۔ ساتھ میں یہ بھی بتایا گیا کہ موقع پر ہی پانچ دہشت گردبھی مارے گئے جس میں سے ایک ملالہ پر حملے میں بھی ملوث تھا۔
یہ پورا کھیل ہی انتہائی مشکوک تھا ۔ پولیس پراسرار طور پر اتنی متحرک تھی کہ اس نے واردات کے بعد فرار ہونے والے دہشت گردوں کو موقع واردات سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر روک لیا اورمقابلے میں پانچ کو مار بھی دیا ۔ اگر ان مارے جانے والوں کے بارے میں تحقیقات کی جائیں تو پتہ چل جائے گا کہ یہ سب افراد کب سے لاپتہ تھے ۔ ایسے مقابلوں پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جاچکا ہے ۔ میرا آج کا موضوع نہ تو نئی اعلان کردہ تنظیم انصار الشریعہ ہے اور نہ ہی ایسے افراد کی مقابلے میں ہلاکت ۔ میرا موضوع اس کے بعد کی صورتحال ہے ۔ اس پوری کہانی میں زور صرف اس بات پر تھا اور ہے کہ نئے گروپ میں شامل تمام افراد یا تو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں یا پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ مارے جانے والے حسان کے بارے میں ہی کہا گیا کہ وہ انجینئر ہے اور پی ایچ ڈی بھی ۔ یہ اطلاع بعد میں آئی جو دبادی گئی کہ حسان نہ تو انجینئر تھا اور نہ ہی پی ایچ ڈی بلکہ وہ تو ڈپلومہ ہولڈر تھا۔ واضح رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈپلومہ کو ڈگری تسلیم نہیں کرتی ۔ اس طرح حسان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا تو درکنار ڈگری یافتہ بھی نہیں تھا۔
اس کے بعد نیا کھیل شروع ہوا اور کہا گیا کہ اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والی جامعات تمام زیر تعلیم طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو فراہم کریں گی۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا گیا کہ تمام طالب علموں سے یہ کہا جائے کہ وہ علاقہ پولیس سے کیریکٹر سرٹیفکٹ لے کر اپنے تعلیمی اداروں میں جمع کروائیں۔ اس کے بعد ایک شور اٹھ گیا مگر کسی نے بھی یہ بات دریافت کرنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ تعلیمی ادارے طلبہ کا کون سا اہم ریکارڈ اپنے پاس رکھتے ہیں جس کی حساس اداروں کو انتہائی ضرورت ہے اور پولیس کیریکٹر سرٹیفکٹ سے کیا ہوگا ؟
پہلے اس سوال کو دیکھتے ہیں کہ حساس اداروں کو تعلیمی اداروں میں افزائش پانے والے مذہبی دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لیے ان کے ریکارڈ کی ضرورت ہے اور جامعات کو یہ ریکارڈ ان حساس اداروں کے حوالے کردینا چاہیے ۔
تعلیمی اداروں کے پاس طالب علموں کا کون سا ریکارڈ ہوتا ہے ، یہ سب ہی جانتے ہیں ۔ یہ ریکارڈ طلبہ کے پُر کیے ہوئے فارم کی صورت میں ہوتا ہے جس میں اس کا نام ، پتہ، والد کا نام اور شناختی کارڈ نمبر وغیرہ درج ہوتا ہے ۔ جب داخلے دیے جاتے ہیں تو ان تمام طلبہ کی فہرست کھلے عام آویزاں ہوتی ہے ۔ تو اس میں کون سی خفیہ معلومات ہے جو تعلیمی اداروں کے پاس ہے ؟ پورے پاکستان میں اگر کسی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو اس کا نظام ایک مربوط مرکزی نظام کے تحت سارے حساس اداروں کی دسترس میں پہلے سے ہے مگر تعلیمی اداروں کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی ۔ تو اب کون سی معلومات درکار ہیں ؟ کہا گیا کہ نہیں ان اداروں میں مشکوک طالب علموں کی معلومات درکار ہیں ۔ تو اس کے لیے شیخ الجامعہ کیا کرسکتا ہے ؟ اس کے پاس تو کوئی جاسوسی کا نظام نہیں ہے ۔ جامعہ کراچی میں رینجرز نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور اس کے پاس تربیت یافتہ جاسوس بھی موجود ہیں اور اس کا نظام بھی ۔ تو پھر فوج کے زیر انتظام یہ رینجرز کیا کررہی ہے جو اسے علم نہیں ہے کہ اس کی ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے ۔ کیا رینجرز جامعہ میں صرف کینٹین کے ٹھیکے لینے کے لیے آئی ہے ۔ جب رینجرز جامعہ میں نہیں تھی تو تب بھی ہر سرکاری ایجنسی کا ہرکارہ یہاں پر موجود ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے ۔ سرور اور بادشاہ حسین کے کردار کے اہلکار ہر دور میں جامعہ میں پائے جاتے رہے ہیں ۔ آخر یہ ڈھیر ساری ایجنسیاں اور ان کے اہلکار جامعہ میں صرف بھٹے کھانے آتے ہیں ۔
اب کیریکٹر سرٹیفکٹ کو دیکھ لیں ۔ پاکستانی پولیس کا حال ہر کوئی جانتا ہے ۔ بھاری نذرانے کے عوض چیف آف آرمی اسٹاف کے خلاف بھی ایف آئی آر کٹوائی جاسکتی ہے اور الطاف حسین کا کیریکٹر سرٹیفکٹ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ تو پھر یہ سارے احمقانہ مشورے کس لیے ؟
سیدھی سی بات یہ ہے کہ ان احمقانہ تجاویز پیش کرنے والوں کو بھی علم ہے کہ اس کا حاصل حصول کچھ نہیں ہے اور نہ ہی ان کا مقصد کسی قسم کا خفیہ ڈیٹا حاصل کر نا ہے ۔ جب کچھ خفیہ ہے ہی نہیں تو پھر کون سا ڈیٹا۔
اس سب کا ہدف کچھ اور ہے ۔ یہ ہدف ہے نوجوان نسل کو خوفزدہ کرنا۔ مسلمانوں کو پہلے مغربی دنیا میں خوفزدہ کیا گیا اور مذہبی شعائر پر عمل تو درکنار ، مذہب کا نام لینا بھی جرم ٹھیرا ۔ اب مسلم ممالک میں ہی مذہبی انتہا پسندی کے نام پر اسلام کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ یہ کہیں اور کا منصوبہ ہے جو نچلی سطح کے افسران کے منہ سے کہلوایا گیا ہے ۔
یاد رکھیے کہ نیو ورلڈ آرڈر ایک ایسانظام حکومت ہے جس میں فرد پر ریاست کا مکمل کنٹرول ہے ۔ اس نظام حکومت میں ریاست بتاتی ہے کہ کون کتنے بچے پیدا کرے گا بلکہ کسے بچے پیدا کرنے کی اجازت ہے اور کسے نہیں ۔ آپ کیا پہنیں گے، کیا پڑھیں گے اور کیا سوچیں گے ، یہ سب ریاست کی مرضی کے مطابق ہوگا اور جو اس کے خلاف بھی سوچے گا وہ ریاست کا مجرم ہوگا اور اسے عبرتناک سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سمجھ لیجیے کہ معاملہ صرف اتنا نہیں ہے کہ کسی ادارے کو معلومات درکار ہیں ۔ یہ معلومات تو پہلے سے ہی نادرا کے ریکارڈ میں موجود ہیں ۔ یہ صرف اور صرف مسلم طلبہ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش