chinaGreater China حصہ دوم و آخر
مسعود انور
www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com
سوال یہ تھا کہ چین کی پیش قدمی کے جواب میں موجودہ عالمی طاقتیں امریکا ، یورپ اور روس کیا کررہے ہیں ۔ یہ ساری پیش قدمی سب کو معلوم ہے تو پھر یہ سب دم سادھے کیوں ہیں ۔ اس کے بعد دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئندہ برسوں میں کوئی نئی جنگ ہونے جارہی ہے جس میں چین کے مدمقابل روس ، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ اتحادی ہوں گے۔ان سوالات کے جواب بوجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
تاجکستان، ہمبنٹوٹا اور جبوتی کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چین نے 2017 میں اچانک تیزی کے ساتھ پیش قدمی شروع کردی ہے اور اب وہ پوری دنیا کو اپنی کالونی بنانے جارہا ہے جس سے عالمی طاقتیں ایک شاک میں آگئی ہیں ۔ ایسا کچھ نہیں ہے ۔String in the Pearls کی اسکیم ہی کو دیکھ لیں کہ 90 کی دہائی میں چین نے اس منصوبے پر عمل شروع کیا اور یہ نام امریکی محکمہ دفاع نے ہی دیا ۔ ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ کی تعمیر و توسیع کا کام تو 2008 میں شروع ہوا تھا مگر منصوبہ پہلے سے موجود تھا اور امریکی محکمہ دفاع اس منصوبے کے تمام نقطوں کو جوڑ کر تصویر بھی بنا چکا تھا اور اس منصوبے کو نام بھی دے چکا تھا ۔ تو پھر اسی وقت اس منصوبے کے سدباب کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ؟ اسی طرح جبوتی میں فوج تو جولائی میں بھیجی گئی مگر یہ فوج اچانک تو نہیں اتاری گئی ۔ اس کے لیے پہلے جبوتی کے حکومت سے معاہدہ کیا گیا ، وہاں پر 10 ہزار فوجی اہلکاروں کے مستقل طعام و قیام کے انتظامات کیے گئے ۔ وہاں صرف فوجی اہلکار ہی تو تعینات کرنا مقصود نہیں ہے ۔ ان کے لیے ہلکے و بھاری ہتھیار بھی پہنچائے گئے ہیں ۔ ہوائی جہاز، برق رفتار چھوٹی کشتیاں، بحری جہاز وغیرہ وغیرہ سب پہنچائے گئے ہیں ۔ ان سب تیاریوں کے لیے بھی برسوں درکار ہوتے ہیں اور اس سب کا بھی جبوتی میں ہی موجود امریکا کی سینٹرل کمانڈ برائے افریقا کے علم میں تھا تو پھر اس سب کو کیوں نہیں روکا گیا ۔
یہ ابہام اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہم ساری صورتحال کو اُس عینک سے دیکھتے ہیں جس سے مین اسٹریم میڈیا ہمیں دکھاتا ہے ۔ یہ مین اسٹریم میڈیا ہمیں بتاتا ہے کہ اب تک دنیا میں دو بلاک تھے ۔ ایک بلاک کا لیڈر روس تھا جبکہ دوسرے بلاک کا لیڈر امریکا تھا ۔ روس کے ساتھ تمام کمیونسٹ ممالک تھے جبکہ امریکا کے ساتھ یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا تھے ۔ اس کے علاوہ پوری دنیا ان کے لیے شکار گاہ تھی ۔ دوبارہ سے صورتحال کو سمجھتے ہیں کہ دنیا کے تمام وسائل پر 150 خاندان قابض ہیں انہیں عرف عام میں Black Nobelities بھی کہا جاتا ہے ۔ ان خاندانوں نے دنیا کو بینکاری کے نظام کے ذریعے قابو میں کررکھا ہے ۔ چین ،ا مریکا، روس، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی ، برطانیہ سمیت دنیا کا کون سا ملک ہے جو ان بینکوں یا ان خاندانوں کا مقروض نہیں ہے۔ ان خاندانوں نے عالمی طاقتوں سمیت پوری دنیا کو Banana States میں تبدیل کیا ہوا ہے جہاں پر ان کے کٹھ پتلی ایجنٹ حکمراں بھی ہیں اور حزب اختلاف بھی ۔ میڈیا بھی ان کا ہے اور پوری دنیا کی فوج بھی ۔ ایران، سعودی عرب، چین ، روس اور امریکا سمیت پوری دنیا میں تیل کے کنوؤں کے مالکان الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ان ہی خاندانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ضرورت پڑتی ہے تو میڈیا کی بھی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں اور ان ممالک کی بھی ۔ امریکا یا روس کے بعد دنیا کی قیادت چین کو دینا ایسے ہی ہے جیسے کھیل کے دوران کسی ٹیم کا منیجر بورڈ اٹھا کر آتا ہے اور 11 نمبر کا کھلاڑی میچ سے باہر اور 18 نمبر کا کھلاڑی میدان کے اندر۔
یہاں پر ایک اور ضمنی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ان سارے ممالک پر ان ہی خاندانوں کے ایجنٹوں کا قبضہ ہے تو پھر اس پورے کھیل کا کیا مقصد ہے؟ اس کے پیچھے ایک بڑی فلاسفی کارفرما ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ درست بات ہے میچ فکس ہے ۔ مگر اس کے نتیجہ کا علم توتماش بینوں کو نہیں ہے ۔ میچ کو بار بار کلائمیکس پر لایا جاتا ہے ۔ اس کے لیے بارہ مسالے موجود ہیں ۔ اداکارائیں بھی بھرپور اداکاری دکھارہی ہیں ۔ اسی سے تماش بین جوا کھیلیں گے اور میچ پر رقم خرچ کریں گے جس سے منتظمین اپنا مقصد یعنی اربوں روپے کی ایک میچ میں ہی کمائی کرلیں گے ۔ اب اگرمیچ ہی نہیں ہوگا تو ہر ایک کی جیب سے رقم نکالنا تو ممکن نہیں ہے ۔
دوسری فلاسفی یہ ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے چند طبعی اصولوں پر بنائی ہے اور اللہ تعالیٰ خود بھی شاذ و نادر ہی یہ اصول توڑتا ہے ۔ پانی کا کام ڈبونا ہے اس سے بچنے کا واحد طریقہ کشتی تھا اور طوفان نوح سے قبل اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو کشتی بنانے کا حکم دیا تھا۔ جب حضرت نوحؑ کشتی بنارہے تھے تو ان کی قوم کے لوگ ان کا مذاق بھی اڑایا کرتے تھے کہ خشکی میں کشتی بنارہے ہیں ۔ حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا تو پانی انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا تھا ۔ اسی طرح سید الانبیاء ﷺ نے تمام تر جنگی حکمت عملیاں اپنا کر ہی فتوحات حاصل کیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا تو کوئی ان کے نزدیک بھی نہیں پہنچ سکتا تھا ۔ مگر یہ اصول حضرت ابراہیم ؑ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے توڑ دیا اور آگ نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا ۔دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے سازش کاروں کا کہنا ہے کہ میچ تو ہونا ہی ہے تو بہتر یہ ہے کہ دونوں ٹیمیں اپنی ہی اتاری جائیں ۔ اس طرح میچ فکس کرنے میں آسانی بھی ہوجاتی ہے ۔ جس طرح ریسلر پوری اداکاری کے ساتھ فکس ہونے کے باوجود کشتی لڑتے ہیں اور تماش بین انہیں اصل سمجھ کر دیکھتے ہیں بالکل اسی طرح دنیا کی شطرنج کی بساط پر مہرے چلائے جاتے ہیں ۔
اس تمہید کے بعد چین کی جارحانہ پیش قدمی اور دیگر طاقتوں کی خاموشی کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔ جب چین اہم مورچوں کی کمان سنبھال چکا ہوگا تو پھر فکس میچ شروع ہوگا ۔ اور اسے Rising of the new power کا عنوان دیا جائے گا۔ دوبارہ سے یاد دہانی ۔ قرضے چینی حکومت نے نہیں دیے بلکہ چینی بینکوں نے دیے ہیں اور ان بینکوں کے مالکان وہی ہیں جو آئی ایم ایف ، عالمی بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک وغیرہ وغیرہ کے ہیں ۔ چین کی حکومت ان بینکاروں کی اتنی ہی غلام ہے جتنی امریکا کی ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش