masood-new-1سعودی عرب میں انتشار حصہ دوم و آخر
www.masoodanwar.com
hellomasood@gmail.com

مسعود انور

 سعودی شاہی خاندان میں ہونے والی صفائی کے کئی پہلو ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام شہزادے انتہائی مالدار ہیں اور ان کی دولت کا بڑا حصہ امریکی اور یوروپی بینکوں اورکمپنیوں میں موجود ہے ۔ مغربی ممالک میں جائیداد اس کے علاوہ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک گرفتار شدگان شہزادوں کی دولت 12 سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے ۔ یہ مغربی بینکوں کا ایک اصول ہے کہ وہ دولت جمع کرنے سے منع نہیں کرتے مگر جیسے ہی آپ اس دولت کو نکالنے کی بات کریں وہ اس کی اجازت نہیں دیتے۔ سوئس لیکس، پاناما لیکس اور اس جیسے سارے لیکس اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ بینک خود ہی ان اطلاعات کو لیک کرتے ہیں اور پھر یہ ساری دولت ہڑپ کرجاتے ہیں۔ اس موضوع پر میں تفصیل کے ساتھ پاناما لیکس کے عنوان سے لکھ چکا ہوں۔یہ آرٹیکل میری ویب سائیٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔

اب یہ سارے گرفتار شدگان شہزادے معتوب ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بیشتر جان کی بازی ہار جائیں اور یوں مغرب میں موجود ساری دولت ایک ہی داو

¿میں ان بینکاروں کی ہوئی ۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ فطری طور پر اس کا شاہی خاندان میں اور بااثر حلقوں میں شدید ردعمل ہوا ہے جس سے سعودی بادشاہ کی مملکت پر گرفت کمزور ہوئی ہے ۔ جب بھی موقع ملے گا ، یہ عناصر MBS کے خلاف کسی بھی بغاوت کی صورت میں سامنے والی صف میں کھڑے ہوں گے ۔ یہ تو داخلی پہلو ہیں ۔

اب اس کے خارجی پہلو دیکھتے ہیں جو زیادہ خطرناک ہیں ۔ ایک 32 سالہ نوجوان جو توسیع پسندی کے خمار میں ہے ،روز ایک نیا محاذ کھول رہا ہے ۔سب سے پہلے یمن پھر قطر اور اب شاہی خاندان ۔ ٹرمپ کے حالیہ دورے میں دیا جانے والا سواگت بہت کچھ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے ۔ ایک بات دوبارہ سے سمجھ لیجیے کہ سعودی عرب کی معاشی حالت کی تباہی کا نقطہ آغاز خلیج کی جنگ تھی ۔ ملکوں کو توڑنے اور اقوام کو غلام بنانے کے لیے جنگوں سے زیادہ کوئی نسخہ کارگر نہیں ہے ۔ سعودی عرب مسلسل حالت جنگ میں ہے ۔ روز ایک نیا محاذ کھولا جارہا ہے ۔ یمن کا محاذ سعودی معیشت کو گھن کی طرح چاٹ چکا ہے اور اب سعودی خاندان کی حکومت کے خاتمے کے لیے صرف ایک زوردار دھکے کی ضرورت ہے جس کا اہتمام کرلیا گیا ہے۔ دوبارہ سے تمام نکات کو دیکھتے ہیں ۔

سعد الحریری لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ ایک مخلوط حکومت کے سربراہ تھے اور دو ماہ قبل تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا ۔ ایک دوسرے کی کارکردگی کو سراہا بھی جارہا تھا اور تحسین بھی جار ی تھی کہ اچانک سعد الحریری کو ریاض طلب کیا گیا اور انہوں نے حزب اللہ پر چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اب تک سعد الحریری لبنان واپس نہیں پہنچے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی اچانک ریاض پر ایک میزائیل حملے کی کہانی سامنے آئی اور کہا گیا کہ حزب اللہ کی یمن میں موجود شاخ انصاراللہ نے یہ میزائیل حملہ کیا تھا ۔ ساتھ ہی مزید میزائیل حملوں کی دھمکی بھی دے دی گئی ۔

اب اس خطے میں نئی صف بندی ہورہی ہے ۔روس ، ایران، شام اور قطر وغیرہ جبکہ دوسرا گروپ امریکا، اسرائیل، سعودی عرب ، اردن، بحرین اور عرب امارات وغیرہ ۔ میں نے لکھا تھا کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں جو کچھ بھی ہوا وہ اس عالمی سازش کا پہلا مرحلہ تھا ۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس کا دوسرا مرحلہ سامنے آنے والا ہے۔ یہ دوسرا مرحلہ ہے لبنان میں حزب اللہ کی سرکوبی کے نام پر حملہ ۔ اس حملے میں امریکا ، اسرائیل اور سعودی عرب پیش پیش ہوں گے جبکہ جوابی حملہ کرنے والوں میں روس ، ایران اور شام شامل ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں وہ سب کچھ ممکن ہوسکے گا جو عالمی سازش کاروں کا منتہا و مقصود ہے ۔ یعنی سعودی عرب کو انتہائی کمزور حالت میں لانا اور پھر وہاں پر بغاوت کے نتیجے میں عرب امارات کی طرح کی چھوٹی چھوٹی سیٹلائٹ ریاستوں کا قیام۔

گزشتہ دو ماہ کے معاملات کو دوبارہ دیکھیے تو معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی ۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ اسرائیل، ٹرمپ کی آوبھگت، ایران کے ساتھ تناومیں اضافہ، اچانک شاہی خاندان میں تطہیر ، ایرانی قیادت کی جانب سے جوابی بیانات، امریکا کی جانب سے شمالی کوریا ، وینیزوئیلا وغیرہ کے لیے اچانک نرم پڑ جانا ۔ اس کا مطلب ہے کہ صف بندی ہورہی ہے ۔ ایک اندازہ ہے کہ دسمبر کے آخر میں حزب اللہ کی سرکوبی کا عمل شروع کردیا جائے گا جس کے ساتھ ہی اس خطے میں وہ لاوا پھوٹے گا جو سب کچھ بہا کر لے جائے گا ۔

اس میں سے کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو اچانک ہوگا ۔ یہ سب انتہائی باریک بینی کے ساتھ بنایا گیا دسیوں برس پہلے کا منصوبہ ہے جس پر کامیابی کے ساتھ عمل جاری ہے۔ ’کیا اب سعودی عرب کی باری ہے ‘، اس عنوان سے میں نے 2012 میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جو اب بھی میری ویب سائیٹ پر موجود ہے ۔ یہ آرٹیکل جسارت میں شائع ہونے کے بعد ایف بی آئی نے ترجمہ کرکے اپنے تمام تھنک ٹینکوں کو بھیجا تھا ۔ بعد میں اس کا چینی، اسپینی اور روسی سمیت دیگر کئی زبانوںمیں ترجمہ بھی کیا گیا۔اس آرٹیکل میں سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کی طرح چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سازش کا بتایا گیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ایک خود کار عمل کے بجائے ایک منصوبے کے تحت سرانجام دیا جانے والا عمل ہے ۔

اب شکار کو ہانکا لگا کر مطلوبہ مقام پر پہنچادیا گیا ہے ۔ شہزادہ محمد بن سلطان اس چارہ کا کام کررہے ہیں جو بڑی مچھلی کے شکار کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ شاہی خاندان میں ہونے والی تطہیر اس سلسلے کا سب سے اہم کام تھا ۔ اب آخری کام بچا ہے اور وہ ہے حزب اللہ کی سرکوبی کے نام پر ایک نئی کثیر القومی جنگ کا آغاز۔ اس میں امریکا اور روس دونوں کی اسلحہ بنانے والی کمپنیاں فائدے میں رہیں گی کیوں کہ وہ صرف اسلحہ فراہم کرنے والوں میں ہوں گے۔ نقصان میں وہ سارے ممالک ہوں گے جو اس جنگ میں شامل ہوں گے۔ ترکی دور سے تماشا دیکھے گا کیوں کہ نئے نقشے میں اسے اسلامی لیڈر کی حیثیت دی گئی ہے ۔ ایک وضاحت دوبارہ سے ۔ امریکا اور روس میں اسلحہ بنانے والی کمپنیاں قومی ملکیت میں نہیں ہیں بلکہ پرائیویٹ کارپوریشن ہیں اور ان کے مالکان بھی الگ الگ نہیں ہیں بلکہ مشترک ہیں ۔ یہ مالکان وہی بینکار ہیں جو فیڈرل ریزرو بینک آف امریکا اور بینک آف انگلینڈ کے مالکان میں شامل ہیں ۔

اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔