masood-oldایران میں ایک اور رنگین انقلاب کی تیاری؟

مسعود انور
hellomasood@gmail.com
www.masoodanwar.com

جس وقت دنیا کرسمس اور نئے سال کی چھٹیاں منا رہی تھی اس وقت ایران میں حکومت کے خلاف مظاہرے شدت پکڑ رہے تھے ۔ مظاہرین ایران کی سڑکوں پر بے روزگاری کی بڑھتی شرح، کم اجرتوں اور مہنگائی کے خلاف نعرہ زن تھے ۔ یہ مظاہرین ایران کی جانب سے دیگر ممالک میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں پر بھی احتجاج کررہے تھے ۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مظاہروں نے ایرانی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ۔ گو کہ اب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے تازہ سلسلے پر قابو پالیا گیا ہے اور اچھے برتاوکے اظہار کے لیے گرفتار مظاہرین کو رہا بھی کرنا شروع کردیا گیا ہے ۔

یہ درست ہے کہ ایران میں وہ تمام اسباب موجود ہیں جن کے لیے مظاہرہ کیا گیا اور مظاہرین کا ایک بھی مطالبہ ایسا نہیں تھا جس سے اختلاف کیا جاسکے ۔ مگر یہ تمام اسباب اچانک تو پیدا نہیں ہوگئے تو پھر اب یہ مظاہرے کیوں ؟ کسی بھی فعل کو سمجھنے کے لیے اس کے پس پشت عناصر کو سمجھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ ملک و قوم کی خاطر جان دینے اور لینے والے دونوں ہمیشہ ہیرو مانے جاتے ہیں مگر یہی فعل ذاتی مقاصد کے لیے کیا جائے تو انتہائی قبیح مانا جاتا ہے ۔ ان مظاہروں کا ایک منفرد پہلو یہ بھی تھا کہ ان کا مرکز تہران نہیں تھا ۔ اس سے قبل جتنی بھی تحریکوں کا آغاز ہوا ہے ان میں سے پیشتر کا مرکز تہران ہی رہا ہے ۔ مشہد ایران کا مذہبی دارالحکومت بھی ہے ۔ اس طرح سے احتجاج کی یہ تازہ لہر مزید منفرد اور معنی خیز ہوجاتی ہے ۔ یہ احتجاج اچانک کیوں ایران میں پھوٹ پڑا اور اس کو منظم کرنے والے عناصر کون تھے؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس کو جان کر ہی ہم ایران اور اس سے ملحق ممالک کی سیاست کو سمجھ سکتے ہیں ۔

حکومت مخالف مظاہرے کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہیں ۔ یہ ہر ملک میں ہوتے ہیں اور معمول کی بات ہے مگر جب اس میں بیرونی عناصر شامل ہوجائیں تو یہ بات ضرور باعث تشویش ہوتی ہے ۔ اب تو یہ بات ریکارڈپر ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں اندرونی عناصر کے بجائے بیرونی عناصر کی کارفرمائی زیادہ ہوتی ہے ۔ پہلے بیرونی دراندازی کی یہ شرح کم تھی تاہم اب یہ شرح سو فیصد کے قریب قریب آگئی ہے ۔

امریکا تسلیم کرچکا ہے کہ خود ایران میں مصدق حکومت کے خلاف مظاہرے امریکی ایجنسی سی آئی اے نے کروائے تھے ۔ گزشتہ دس برسوں میں تیسری دنیا خصوصا عرب ممالک میں حکومتوں کے خلاف احتجاجی مہم باہر سے ہی منظم کی گئی اور ان کے لیے ایک نئی اصطلاح Colour Revolution یا رنگین انقلاب ایجاد کی گئی ۔ عرب ممالک میں اسے Arab Spring یا بہار عرب کا بھی نام دیا گیا مگر مجموعی طور پر ان سب احتجاجی تحریکوں کو رنگین انقلاب ہی کہا جاتا ہے ۔

رنگین انقلابات پر میں نے پانچ آرٹیکل پر مبنی ایک سیریز لکھی تھی جسے میری ویب سائیٹ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔ آموختہ کے لیے رنگین انقلاب کی تعریف کو ایک مرتبہ پھر دیکھ لیتے ہیں ۔ رنگین انقلاب کی اصطلاح ایسی احتجاجی مہم کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں بیرونی عناصر جمہوریت کا بینر تھامے عوامی مظاہروں کو منظم کرتے ہیں ۔ یہ احتجاجی تحریک ایک نکاتی ایجنڈے کی حامل ہوتی ہے اور وہ نکتہ ہوتا ہے حکومت کی تبدیلی ۔ حکومت کی تبدیلی کے لیے دیگر عوامل بھی استعمال کیے جاتے ہیں جس میں انتخابات میں دھاندلی ، تشدد کو پیدا کرنا اور عوامی سطح پر بڑھاوا دینا اور سماجی سطح پر بے چینی پیدا کرنا شامل ہے ۔ ان سب آلات کو استعمال کرنے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ حکومت کو ایک کٹھ پتلی حکومت سے تبدیل کردیا جائے ۔ ضروری نہیں کہ رنگین انقلاب کی تحریکیں ہمیشہ ہی کامیابی سے ہمکنار ہوں مگر عموما یہ کامیاب ہی رہی ہیں ۔

گذشتہ چار عشروں کو دنیا بھر میں حکومتوں کی تبدیلی کا عرصہ قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔ حکومتو ں کی تبدیلی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے مگر ان تبدیلیوں میں بین الاقوامی سازش کاروں نے ایک کامیاب تجربہ کیا اور وہ تھا عوامی احتجاج کے ذریعے ہدف بنائی گئی حکومت کی بے دخلی اور مطلوبہ افراد کی حکومت میں تعیناتی ۔ جس طرح کوئی بھی حکومت جب کوئی فوج آپریشن کرتی ہے تو اسے ایک نام دیتی ہے، اسی طرح ان حکومتوں کی تبدیلی کے آپریشن کو مختلف نام دیے گئے۔ یہ سارے نام یا تو کسی رنگ کے نام پر تھے یا پھول کے نام پر۔ اسی لیے نیا بھر میں ان آپریشنز کو رنگین انقلابات کہا جاتا ہے ۔ ان تمام مہمات جن کو بین الاقوامی میڈیا عوامی تحریک کا نام دیتا ہے، کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ تشدد سے پاک تحریکیں تھیں ۔ حالانکہ زمینی حقائق اس کے یکسربرعکس ہیں ۔ اس کا آغاز فلپائن سے 1986 میں ہواجس کو عوامی قوت انقلاب کا نام دیا گیا اوراس کو عرف عام میں پیلا انقلاب کہا جاتا ہے۔مگر رنگین انقلاب کی اس سیریز کا باقاعدہ آغاز 2000 سے یوگوسلاویہ سے ہوا۔ اس کے بعد 2003 میں گلاب انقلاب کے ذریعے جارجیا میں ایڈورڈ شیورڈناڈزے کی حکومت کا تختہ الٹا گیا ۔ یوکرین میں 2004 میں اورنج انقلاب کے ذریعے حکومت ہٹائی گئی ۔ کرغیزستان میں ٹیولپ انقلاب لایا گیا جس کو بعض اوقات گلابی انقلاب کا بھی نام دیا گیا ۔

لبنان میں شامی فوج کی واپسی کی لئے 2005 میں دیودار انقلاب لایا گیا ۔ کویت میں خواتین کو پارلیمنٹ میں نشست دلانے والوں نے نیلا رنگ منتخب کیا اور اس کو نیلے انقلاب کا نام دیا گیا ۔ 2005 میں عراق میں جمہوریت کے قیام کی مہم کو جارج بش نے جامنی انقلاب کا نام دیا ۔ ایران میں 2009 کے انتخابات کے خلاف مہم کو ہرے انقلاب کا نام دیا گیا ۔ تیونس سے شروع ہونے والی عالم عرب میں تبدیلیوں کو ان سازش کاروں نے بہار عرب کا نام دیا تھا مگر ہر ملک کے لئے الگ کوڈ کا انتخاب کیا گیا ۔ تیونس میں حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کو چنبیلی انقلاب کا نام دیا گیا تھا جبکہ مصری صدر حسنی مبارک کے خلاف تحریک کو کنول انقلاب کا نام دیا گیا تھا ۔ اس کو کئی بار سفید انقلاب اور نیل انقلاب بھی کہا گیا مگر اصل کوڈ کنول انقلاب ہی تھا ۔

اس کے علاوہ پاکستان میں وکلاء تحریک کو کالے انقلاب کا نام دیا گیا جو عدلیہ کی بحالی سے شروع ہوئی تھی اور جلد ہی پرویز مشرف ہٹاو تحریک میں بدل گئی تھی ۔ دیگر ممالک جہاں پر یہ تحریکات شروع ہوئیں اس میں چیکو سلاویکیہ ، آزربائیجان ، ازبکستان ، برما ، چین ، بیلارس ، آرمینیا ، مالدووا ، منگولیا اور روس شامل ہیں ۔

ان تمام تحریکات میں کھیل کے میدان کےعلاوہ ہر چیز مشترک ہے ۔ کھلاڑیوں کا انتخاب ، کھیل کے قواعد، کھلاڑیوں کا یونیفارم ، نعرے ، نام نہاد انقلاب کا اسکرپٹ ، بین الاقوامی میڈیا کا کردار اور سب سے بڑھ کر فنڈنگ کا طریقہ کار ۔ ان تمام تحریکات کے مشترک نکات جن کو ڈھونڈنے کے لئے کسی خاص دقت کی ضرورت نہیں ہے وہ یہ ہیں ۔ سب سے پہلی بات یہ کہ ان کا آغاز پرانی سیاسی پارٹیوں کے بجائے نئے کھلاڑیوں کو میدان میں اتار کر کیا جاتا ہے۔ عموما ان کا تعلق طلبہ یونین یا لیبر یونین سے ہوتاہے۔ بعض اوقات پس منظر میں اور بعض اوقات پیش منظر میں مختلف این جی اوز انتہائی متحرک ہوتی ہیں۔ ان کو سول سوسائٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے رہنما پہلے دن سے ہی اس تحریک کے لیے کوئی رنگ یا پھول چن لیتے ہیں جس کو پوری تحریک کے دوران علامت کے طور پر استعما ل کیا جاتا ہے۔اس تحریک کے آغاز سے قبل مقتدر شخص کے خلاف ذرائع ابلاغ میں ایک زبردست مہم چلائی جاتی ہے اور اس کے تمام کالے کرتوت حیرت انگیز طور پر روز ایک نئی انکشافاتی رپورٹ کی صورت میں ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں چھپے ہوتے ہیں۔ تحریک کے آغاز سے قبل ہی ملک میں مہنگائی، بدامنی اور اسٹریٹ کرائم کا طوفان آجاتا ہے اور عوام اس مقتدر شخص سے ہر حال میں چھٹکارے کو تمام مسائل کا حل سمجھنے لگتے ہیں ۔ تحریک کا آغاز ابتدائی طور پر پرامن مظاہروں سے شروع ہوتا ہے اور اختتام خوں ریزی پر۔ ان انقلابیوں پر عالمی ذرائع ابلاغ خصوصی طور پر مہربان رہتے ہیں اور ان کے ہر بلیٹن میں اس کے بارے میں خصوصی رپورٹس شامل ہوتی ہیں ۔

ایران میں احتجاج کا نیا سلسلہ کیا ایک نئے رنگین انقلاب کی شروعات ہیں ۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاءاللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔