masood newایران میں ایک اور رنگین انقلاب کی تیاری؟ حصہ دوم و آخر

مسعود انور

hellomasood@gmail.com
www.masoodanwar.com

سوال تھا کہ کیا ایران میں احتجاج کا نیا سلسلہ ایک نئے رنگین انقلاب کی شروعات ہیں یا پھر یہ معمول کے مظاہرے اور عوامی احتجاج ہیں ۔ 2009 میں سبز انقلاب کے نام سے شروع کی جانے والی سبز رنگین انقلاب کی احتجاجی تحریک کی شروعات کو دیکھیں اور موجودہ احتجاجی تحریک کی شروعات کو دیکھیں تو دونوں بالکل ایک دوسرے کی مماثل ہیں ۔ سبز انقلاب کی تحریک بھی معاشی مشکلات اور بے روزگاری کے نام پر شروع کی گئی تھی جو بعد میں حکومت کی تبدیلی کی تحریک میں تبدیل کردی گئی تھی ۔ نئی احتجاجی تحریک بھی معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے نام پر شروع کی گئی مگر تین دن کے اندر اندر اس میں کرپشن کا تڑکا لگادیا گیا اور پھر منطقی طور پر اسے کرپشن سے لتھڑی حکوومت کی تبدیلی کے سلوگن میں تبدیل کردیا گیا ۔ نئی احتجاجی تحریک کی سرپرست مریم رجاوی ہیں جو مغرب میں مقیم ہیں ۔ ان کے شوہر مسعود رجاوی ایرانی انقلاب کے خلاف بنائی جانے والی پارٹی مجاہدین خلق کے اہم لیڈر تھے ۔ 1981 میں وہ ایران چھوڑ کر عراق میں جا بسے تھے ۔ اس کے بعد وہ فرانس اور عراق میں ہی مقیم رہے ۔ 2003 میں امریکا کے عراق حملے کے بعد سے وہ لاپتہ ہوگئے اور اندازہ ہے کہ مارے گئے ۔ اس کے بعد ان کی اہلیہ مریم رجاوی کو مجاہدین خلق کی باگ ڈور پکڑا دی گئی ۔ مریم رجاوی کی فنانسر وہی قوتیں ہیں جو دنیا بھر میں اپنی کٹھ پتلی حکومتیں چاہتی ہیں ۔ نئی احتجاجی تحریک میں مریم رجاوی کا عمل دخل بہت کچھ بتانے کے لیے کافی ہے ۔

عالمی سازش کاروں کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے کسی بھی ایک ایجنٹ کو ایک پروجیکٹ دیتے ہیں اور وہی اس پروجیکٹ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر پولیو کے نام پر ویکسین کی ذمہ داری ملنڈا اینڈ بل گیٹس فاونڈیشن کے سپرد ہے ۔ اب کوئی اور یہ کام نہیں کرے گا ۔ اسی فاونڈیشن نے ویکسینیشن کے نام پر برازیل میں زیکا وائرس کو پھیلایا (تفصیل کے لیے زیکا وائرس کے نام سے آرٹیکل کی سیریز میری ویب سائیٹ پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے ) ۔ اسی طرح پوری دنیا میں حکومتوں کی تبدیلی کا یا احتجاجی تحریکوں کو منظم کرنے کا پروجیکٹ جارج سوروس کو دیا گیا ہے ۔ پوری دنیا میں جہاں پر بھی احتجاجی تحریکیں برپا کی گئیں اس میں جارج سوروس کی اوپن فاونڈیشن شریک رہی ہے ۔ اسی اوپن فاونڈیشن سے ہی ان تحاریک کی فنڈنگ کی جاتی رہی ہے ۔ حتٰی کی امریکا میں Occupy Wall Street  کے نام سے چلائی جانے والی احتجاجی تحریک کی فنڈنگ بھی اسی اوپن فاونڈیشن سے کی گئی تھی ۔ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کی سرپرست پارٹی مجاہدین خلق کو بھی یہی اوپن فاونڈیشن مالی امداد فراہم کررہی ہے ۔

یہ دیکھنے کے بعد کہ نئی احتجاجی تحریک بھی عالمی رنگین انقلاب تحریک کا ہی ایک حصہ ہے، ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عالمی سازش کار ایران میں حکومت کی تبدیلی کے عمل سے چاہتے کیا ہیں ؟ دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران سے زچ ہیں اور وہ ہر صورت میں ایران میں شاہ ایران جیسی حکومت چاہتے ہیں ۔ صدام حسین ہوں یا شاہ ایران ، ان میں سے کوئی بھی عالمی سازش کاروں کا باغی نہیں تھا ۔ تاہم کھیل کی نوعیت کے لحاظ سے کھلاڑیوں کی تبدیلی ضروری تھی سو وہ کردی گئی ۔ موجودہ ایرانی حکومت ہی میں وہ اہلیت ہے جس کی بناء پر اس خطے میں دیگر کھلاڑیوں کو کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے ۔ یہ ایران ہی کا ہوّا ہے جس کی بناءپر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کو بہ آسانی ٹریپ کرلیا گیا ہے ۔ اب سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات و بحرین سب اقتصادی غلامی میں جاچکے ہیں ۔ ایسے موقع پر ایران میں کسی معتدل حکومت کے قیام کا کہیں سے بھی کوئی منشاء نہیں ہے ۔ تاہم ایرانیوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ایسے لیور ضروری ہیں ۔ سو یہ پریشر لیور اپنا کام بخوبی کررہے ہیں ۔

اب ایک اور ضمنی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایران میں حکومت کی تبدیلی بھی مطلوب نہیں ہے تو پھر ایران میں احتجاجی تحریک کیوں؟ ایران ٹرک کی ایک ایسی بتی ہے جس کے پیچھے لگا کر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے کچھ بھی منوایا جاسکتا ہے ۔ پہلے سعودی عرب کے شاہی خاندان کو یہ ڈراونا خواب دکھایا گیا کہ یمن سے شاہی خاندان کی تبدیلی کی ایرانی سازشیں ہورہی ہیں اس لیے یمن میں ہی ان سازشی عناصر کاقلع قمع کردیا جائے ۔ اس خواب کو دکھا کر سعودی عرب کو یمن کی دلدل میں پھنسا دیا گیا ۔ اب سعودی عرب ، بحرین اور دیگر اتحادیوں کو نیا خواب دکھایا گیا ہے اور وہ ہے دشمن کی اس کے اپنے گھر میں سرکوبی ۔ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کے نام پر پھر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک سے اربوں ڈالر کی وصولی کرلی گئی ہے ۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار کیے جارہے ہیں ۔ یعنی ایران کی حکومت کو قابو میں رکھنا اور دوسری جانب سعودی عرب گروپ کو مزید اقتصادی دلدل میں ڈبودینا ۔

ایک بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ حکومت رہے یا نہ رہے ، ملکوں کا جغرافیہ تبدیل ہوجائے ، بینکوں کے قرضے ہمیشہ باقی رہتے ہیں ۔ بینک یہ قرضے بھاری مالیت کے رہن کے عوض دیتے ہیں اور سود سمیت وصول بھی کرلیتے ہیں ۔ مشرق وسطٰی اور عرب ممالک میں جو بھی جغرافیائی تبدیلی آئے ، یہ قرضے باقی بھی رہیں گے اوروسائل پر قبضے کی صورت میں وصول بھی کرلیے جائیں گے ۔ اس وقت تو کھیل قرض دینے اور مزید قرض دینے کا جاری ہے جو قوموں کو کنٹرول کرنے میں کام آتا ہے ۔ آنے والے ماہ اس خطے کے لیے انتہائی اہم ہیں ۔ پاکستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی براہ راست تعلق بین الاقوامی کھیل سے ہی ہے ۔ کھیل جاری ہے ، اسے دیکھتے رہیے مگر اس امر کا بھی خیال رکھیے کہ اس کھیل کے براہ راست متاثرین میں ہم بھی شامل ہیں ۔ خاموش تماشائی کا کردار خود کشی کے مترادف ہوگا ۔

اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔