polio

مسعود انور
hellomasood@gmail.com
www.masoodanwar.com

polioرضاکاروں پر قاتلانہ حملوں کے بعد پاکستان میں انسداد پولیو مہم ایک نیا رخ اختیار کرچکی ہے۔ جس طرح ملالہ یوسف زئی پر حملے کی کوئی بھی ذی ہوش شخص حمایت نہیں کرسکتا مگر دوسری جانب کوئی بھی ذی علم اور پاکستان سے محبت رکھنے والا کوئی بھی شخص ملالہ کے ذریعے بین الاقوامی سازش کاروں کے جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی بھی حمایت نہیں کرسکتا۔ بالکل یہی صورتحال انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں پر حملوں کی ہے۔ کوئی بھی ایسا شخص جو ذرا بھی انسانیت رکھتا ہے وہ ان بے گناہ رضاکاروں کے قتل پر غمزدہ ہے۔ بے روزگاری کے عفریت سے ڈسے اس معاشرے میں چند سو روپے روز کی یو میہ اجرت پر بھرتی کئے گئے ان رضاکاروں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ پولیو کیا چیز ہے اور اس کی ویکسین کے کیا فوائد و نقصانات ہیں۔ یہ تو یہ جانتے ہیں کہ ان کو اپنے سپروائزروں کی ہدایات کے مطابق اپنا کام مکمل کرنا ہے اور مہم کے مکمل ہونے کے بعد ان کو اس کی اجرت مل جائے گی۔ اس اجرت کے ملنے سے قبل ہی انہوں نے اس کے بارے میں خواب بن رکھے ہوتے ہیں۔ کئی قرض خواہوں کو آسرا دیا ہوا ہوتا ہے کہ بس جلد ہی وہ ان کی ادائیگی کردیں گے۔ علاقے کے دکان داروں سے اس کی آس میں وہ قرض پر روز کا سودا سلف لیتے ہیںاور پھر دن بھر گلیوں گلیوں کی مشقت میں مصروف ہوتے ہیں۔

سوال یہ نہیں ہے کہ اس انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں کا بے گناہ خون بہایا گیا۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ انسداد پولیو مہم ہے کیا چیز جس کے بارے میں پوری دنیا تلی بیٹھی ہے کہ اس کو ہر صورت پاکستان میں جاری رکھنا ہے۔ حکومت پاکستان کی یہی پہلی ترجیح ہے، عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کہتا ہے کہ صرف اسی پروجیکٹ کو دیکھنا ہے، پاکستان کی ساری سیاسی پارٹیاں چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا اس سے باہر ، ان کی حمایت میں تن من دھن سے سب کچھ کرنے پر تیار ہیں۔ اگر اس مہم کو ختم کرنے کے بارے میں سوچا جائے تو پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر کو روکنے کی دھمکی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ دوسری جانب اس کی مخالفت کرنے والے اتنا آگے بڑھ چکے ہیںکہ معصوم بے گناہ بچیوں کو بلا تکلف قتل کررہے ہیں۔

کیا پولیو پاکستان میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے؟ جی نہیں پورے پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد سال بھر میں سو سے بھی آگے نہیں جاتی۔ اور اس سے موت بھی واقع نہیں ہوتی۔ اس سے صرف معذوری ہوتی ہے۔ بہت زیادہ ہوا تو متاثرہ بچہ زندگی بھر بیساکھی کا محتاج ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دیگر بیماریاں زیادہ تباہ کن ہیں۔ آج ہی کی خبر کے مطابق سندھ میں خسرہ سے مرنے والے بچوں کی یومیہ تعداد بائیس سے بڑھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ڈائریااور گیسٹرو سے مرنے والوں کی تعداد ہر برس ہزاروں میں ہوتی ہے۔ ملیریا بھی ایک تباہ کن بیماری ہے جس سے سارا سال پورا پاکستان نبرد آزما رہتا ہے۔

پھر پولیو میں ایسا کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، گیٹس فاونڈیشن اندھا دھند اس کی فنڈنگ کررہا ہے۔ گیسٹرو اور ملیریا کو ختم کرنے کے لئے کسی ویکیسن کی ضرورت نہیں۔ بس مچھرمار اسپرے کروانا ہے، صفائی کا اہتمام کرنا ہے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ یہ سب ویسے ہی فرد کے انسانی حقوق اور ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہے مگر نہ اس کی طرف توجہ ہے اور نہ فنڈز اور نہ ہی کوئی آگاہی مہم۔

اور پھر انسداد پولیو مہم کی صرف ایک علاقے میں توجہ اور اس کو مشکوک بناتا ہے۔ انسداد پولیو مہم سے وابستہ ایک این جی او کے ذمہ دار نے مجھے بتایا کہ ہمیں کراچی میں پشتو بولنے والے علاقوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پوری دنیا میں ویکسین کی افادیت اب تک ثابت نہیں ہے۔ ڈاکٹروں اور محققین کا ایک بڑا حلقہ اس کی افادیت سے انکاری ہے اور اس کو ایک نسلی ہتھیار قرار دیتا ہے۔ پولیو کے انسداد کے لئے جو قطرے پلانے کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اس کی کینیڈا ور امریکا میں ممانعت ہے۔ ان دونوں ممالک میں یہ ویکیسن انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے اور وہ بھی چھ برس کی عمر کے بعد۔پھر اس میں ایسا کیا ہے جس کا سارا زور پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی پر ہی ہے۔

اس سارے واقعے کا دوسرا رخ اس مہم کے رضاکاروں کا قتل ہے۔ میں شروع سے ہی اس کی نشاندہی کرتا رہا ہوں کہ حکومت میں بیٹھے افراد اور ان کے مخالف دونوں ایک اہی طاقت کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ ایک گروپ حماقتیں کرتا ہے اور دوسرا ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہی صورتحال یہاں پر بھی ہے۔ پولیو مہم چلوانے والے اور ان رضاکاروں کو مارنے والے ایک ہی قوت کے کارندے ہیں۔ اس وقت ٹارگٹ پاکستان کو ایک خطرناک ملک ڈکلیئر کرنا ہے۔ اس کے لئے ان معصوم رضاکاروں سے زیادہ کون بہترین ہدف ہوسکتا ہے۔ اب پورا بین الاقوامی میڈیا ان رضاکاروں کی لاشوں پر پاکستان کے خلاف بھونپو لئے کھڑا ہے۔ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر اس مہم کی مخالفت ہی کرنا ہے تو ان افراد یا این جی اوز کو کیوں ٹارگٹ نہیں کیا جاتا جو ان عالمی سازش کاروں کے براہ راست ایجنٹ اور کارندے ہیں، ان کا نشانہ معصوم رضاکار ہی کیوں۔ یہ مت کہیں کہ ان تک پہنچ مشکل ہے۔ جو لوگ مہران نیول بیس، جی ایچ کیو اور پشاور ایرپورٹ پر حملہ کرسکتے ہیں، ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس کی ہدایت اوپر سے نہیں آئی ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے پاکستان مخالف تو ضرور متحد ہیں مگر پاکستان حامی تتر بتر۔ ڈاکٹروں، پیتھالوجسٹ، مائیکروبائیولوجسٹ یا فارماسسٹ کا کوئی بھی گروپ اور تنظیم اس پر کام کرنے کے لئے راضی نہیں کہ ان مشکوک دواوں یا ویکسین پر کام کرکے دیکھے کہ آخر یہ ہے کیا بلا۔ دس بیس سال پہلے جن بچوں کو یہ قطرے پلائے گئے تھے ، ان پر اس کے کیا اثرات ہوئے۔ مغرب کی تو یہ رپورٹ ہے کہ ان قطروں سے پولیو کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح پیشہ ور افراد کی کوئی بھی تنظیم کوئی بھی کام کرنے پر راضی نہیں۔ اس بات کو ماننے پر کوئی بھی راضی نہیں کہ اگر یہ سب غلط ہے جس پر گہرے شکوک ہیں اور مغرب سے اس کے نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں تو ہم اپنے بچوں کو کیوں کر اپنے ہاتھوں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر ہم خودکام کرکے اس منفی و مثبت پہلو قوم کے سامنے کیوں نہ پیش کریں۔

ہماری تو یہ صورتحال ہے کہ عالمی سازش کاروں کی ڈفلی پر سب ہم رقص ہیں۔ ذرا اسلام آباد میں پولیو مہم کی حمایت میں دسمبرمیں ہونے والی ہنگامی کانفرنس کے شرکاء کو تو دیکھئے۔ کون سی اہم سیاسی مذہبی یا سیاسی جماعت ہے جو اس میں شریک نہیں اور جوش و خروش سے انسداد پولیو کا عزم نہیں کررہی۔ ایم کیو ایم کے قائد تو شروع سے ہی اپنی تنظیم کو اس کی ہدایت کرچکے ہیں۔ اب دیگر تمام جماعتوں اور پارٹیوں نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس سے ان عالمی سازش کاروں کے پاکستان میں اثر و نفوذ کی ڈگری دیکھی جاسکتی ہے۔

کس طرح پاکستانی میڈیا ان بے گناہ رضاکاروں کے خون کو فروخت کررہا ہے۔ کس طرح بین الاقوامی میڈیا اس کو دکھارہا ہے۔ یہ سب دیکھئے ، سوچئے اور پھر ان عالمی سازش کاروں کی کارکردگی پر سر دھنئے۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔ ہشیار باش۔