Polio 1مسعود انور
hellomasood@gmail.com
www.masoodanwar.com

polioانسداد پولیو کی ٹیموں پر قاتلانہ حملوں کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی اب تشہیر نہیں کی جائے گی اور خاموشی سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے انسداد پولیو کی ٹیم کے رضاکاروں کا یومیہ وظیفہ ڈھائی سو روپے سے بڑھاکر پانچ سو روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ انسداد پولیو کی ٹیموں کے ساتھ پولیس اور رینجرز کے اہلکار ہمراہ ہوں گے تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے۔ خیبر پختون خواہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جس علاقے میں انسداد پولیو کی ٹیم سرگرم عمل ہوگی ، اس علاقے میں موٹر سائیکل چلانے پر ہی پابندی عائد ہوگی۔ یہ تو پاکستانی حکومت کی چلت پھرت ہے۔

پولیو پر بین الاقوامی دلچسپی بھی کچھ کم نہیں ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہاں پر مدّعی سست اور گواہ چست والا معاملہ صادق آتا ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بین الاقوامی سازش کاروں کی دلچسپی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس مہم کو معطل کرنے کی صورت میں پاکستانی عوام کے بیرون ملک سفر پر پابندی تک کی دھمکی دی گئی ہے۔

عوام النا س میں انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے اور اس کے خلاف جذبات کو مدھم کرنے کے لئے روزانہ علماءکرام سے فتاویٰ حاصل کئے جارہے ہیں۔ سعودی عرب سے مذہبی شخصیات کو پاکستان مدعو کرکے ان سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر این جی اوز کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کو بھی متحرک کردیا گیا ہے۔ امریکی بلاک میں شامل اے این پی اور ملکہ برطانیہ کی وفاداری کے حلف یافتہ الطاف حسین کی ایم کیوایم اس مہم میں پیش پیش ہیں۔پاکستانی نژاد برطانوی شہری الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے تمام کارکنان کو اپنی نگرانی میںاپنے اپنے علاقوں میں پولیو کی مہم کو کامیاب بنانے کی ہدایت کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر انسداد پولیو مہم کا مرکزی نقطہ پشتو بولنے والے افراد ہیں۔ اس مہم کی سرگرمی پاکستان اور افغانستان کے دونوں طرف کا سرحدی علاقہ ہے۔ پاکستان میں یہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان صوبے میں پوری سرحدی پٹی کے ساتھ مہم جاری ہے جہاں پر پشتو بولنے والے پختونوں کی آبادی ہے جبکہ یہ کراچی میں بھی ان ہی علاقوں میں سرگرمی کے ساتھ جاری ہے جہاں پر پختونوں کی آبادی ہے۔ واضح رہے کہ کراچی اس وقت پشتو بولنے والے افراد کا دنیا بھر میںسب سے بڑا شہر بن چکا ہے اور یہاں پر پشتو بولنے والے افراد کی تعداد پشاور میں بسنے والے افراد سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب خسرہ کے عفریت نے سندھ کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس وقت صرف سندھ میں خسرہ سے مرنے والے معصوم بچوں کی یومیہ تعداد بائیس تک پہنچ گئی ہے۔ اب اس موذی بیماری نے پاکستان کے دیگر علاقوں کا بھی رخ کرلیا ہے۔ اگر اس پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو یہ مرض روزانہ سیکڑوں بچوں کو نگلنے لگے گا۔ انسانی جانوں کے لئے خطرناک بیماریوں میں ملیریا ایک خوفناک عفریت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ملیریا ہر برس ساڑھے چھ لاکھ سے زائد افراد کی جانیں لے لیتا ہے یعنی تقریبا دو ہزار افراد روزانہ۔ تھائی لینڈ کے ایک ڈاکٹر کے مطابق ملیریا کی دوا بھی نامعلوم وجوہات کی بناءپر اب اثر کھونے لگی ہے۔ دو سال پہلے تک یہ چوبیس گھنٹے میں اپنا اثر دکھا دیتی تھی مگر اب اس کا اثر بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔ اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو اس وقت اگر ملیریا سے یومیہ مرنے والوں کی تعداد دو ہزار ہے تو یہ آئندہ بیس ہزار یومیہ ہوجائے گی۔ یعنی ملیریا سے ہر سال اتنے افراد مرجائیں گے جتنے مجموعی طور پر زلزلے یا سمندری طوفانوں ، جنگوں اور دیگر بیماریوںسے بھی نہیں ہوں گے۔

میں کسی طور بھی معصوم اور بے گناہ رضاکاروں پر حملوں کے حق میں نہیں ہوں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو بیچارے بے روزگاری کے ڈسے ہوئے ہیں۔ مگر یہ ملین ڈالر کا سوال تو ہے کہ پولیو ویکیسین میں ایسا کیا ہے کہ شیطان کا پجاری بل گیٹس اس میں اربوں ڈالر پھونک رہا ہے، عالمی سازش کاروں کی ڈکلیئرڈ آلہ کار عالمی ادارہ صحت اس پر اپنا سارا زور صرف کئے ہوئے ہے۔ملکہ برطانیہ سے وفاداری کے حلف یافتہ الطاف حسین اس کے لئے بے تاب ہیں۔ اے این پی سمیت امریکی ڈگڈگی پر ناچنے والے تمام پاکستانی لیڈر و تنظیمیں و پارٹیاں اس پولیو کے قطرے پلانے کو اپنا فرض عین سمجھے بیٹھے ہیں۔ اس پولیو سے آخر نقصان کتنا ہوتا ہے؟ محض سو افراد سالانہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بچے مرتے نہیں ہیں صرف معذوری کے خطرہ سے دوچار ہوتے ہیں۔ مگر یہاں پر تو ہزاروں افرادہر ماہ ملیریا اور خسرہ سے مررہے ہیں ، اس پر کوئی کام اور توجہ کیوں نہیں؟

یاد رکھئے کہ عالمی سازش کاروں نے گذشتہ صدی میں تین عالمی جنگوں کی منصوبہ بندی اس سے ابھی ایک سو سال پہلے کی تھی۔ یوروپین یونین بنانے کا کام اس سے پچپن برس پہلے شروع ہوا تھا۔ اس پولیو ویکسین یا کسی اور ویکسین کے اثرات ہم کو آج نہیں کم از کم بیس برس بعد پتہ چلیں گے۔ کم از کم اس وقت ہم اس کا کیمیائی تجزیہ کرکے خود تو دیکھیں کہ اس میں آخر ہے کیا اور اس کے انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کی لیبارٹریوں کی رپورٹوں کو ایک طرف پھینک دیجئے، یہ بات ہزاروں مرتبہ ثابت ہوچکی ہے کہ جہاں پر ان کا مفاد ہو، یہ بین الاقوامی لیبارٹریاں جعلی رپورٹیں تیار کرنے اور ریلیز کرنے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کرتیں۔

دنیا کی آبادی میں مطلوبہ حد تک کمی بھی ان عالمی سازش کاروں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔ ہشیار باش۔